خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 374

1952 374 خطبات محمود ہے۔اور ان کے بدلہ میں انہیں جنت دے دی ہے۔گویا یہ بھی ایک سودا ہے۔جیسے ایک تاجر کی کوڑی کوڑی کے حساب کے بعد نفع اٹھاتا ہے اسی طرح ایک مومن بھی کوڑی کوڑی کا حساب کر کے نفع پائے گا۔صحابہ میں نیکیوں میں ترقی کرنے کا اتنا شوق پایا جاتا تھا کہ ایک دفعہ صحابہ ایک جنازہ پر گئے۔جب جنازہ کی نماز ختم ہوگئی تو ایک صحابی نے کہا میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص کسی میت کی نماز جنازہ میں شریک ہوا سے ایک قیراط ثواب ملے گا۔اور جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے اور وہاں اتنی دیر ٹھہرے کہ میت کو دفن کر لیا جائے اُسے دو قیراط ثواب ملے گا۔اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے 2۔جب اُس صحابی نے یہ روایت سنائی تو بعض صحابہ سخت ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ تم نے یہ بات ہمیں پہلے کیوں نہ بتائی۔نا معلوم ہم نے کتنے قیراط ثواب ضائع کر دیا ہے 3۔کہتے ہیں قطرہ قطره میشود در یا۔قطرہ قطرہ مل کر دریا بن جاتا ہے۔اسی طرح ایک نیکی کے کرنے سے دوسری نیکی کی توفیق ملتی ہے۔اگر تم جلسہ میں بیٹھ کر تقاریر سنو گے تو تمہیں اس سے کی فائدہ پہنچے گا۔پھر اگر تم تقاریر سننے کے لئے بیٹھو گے تو تم کہو گے ذرا کان لگا کر سُن لیں تا کوئی مفید بات ہاتھ آجائے۔پھر جب تم کان لگا کر سنو گے تو اُن پر عمل بھی کرو گے۔پھر جب تم عمل کرنے کی لگ جاؤ گے تو تم کہو گے اتنی دیر عمل کیا ہے چلو کچھ دیر اور عمل کر لو۔پھر دوسرے دن بھی تمہیں اس بات کی تحریک ہو گی۔یہاں تک کہ تمہاری ساری زندگی ایمان اور عمل کے لحاظ سے قابل ہو جائے گی۔مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ دوستوں نے اس سال میری نصیحت پر ایک حد تک عمل کیا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس سال مزید توفیق دے۔اور پھر اس کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لئے آپ کو تقاریر سننے اور اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔“ 1 : التوبة: 111 ( بدر قادیان 25 جنوری 1953ء) 2 بخاری کتاب الإيمان باب اتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ مِنَ الْإِيمَان - :3 مسلم كتاب الجنائز باب فَضْلُ الصَّلواةِ عَلَى الْجَنَازَة - (الخ)