خطبات محمود (جلد 33) — Page 349
1952 349 خطبات محمود اب تبلیغ جیسے عظیم الشان کام کو جاری کرنے کے لئے سلسلہ احمدیہ نے تحریک جدید جاری کی ہے تا باہر سے لوگ بلوائے جائیں جو یہاں آکر دین سیکھیں۔اور ان میں سے ایسے لوگ تیار کئے جائیں جو باہر جا کر لوگوں کو دین سکھائیں۔یہی قرآن کہتا ہے کہ تم باہر کے لوگوں کو تحریک کرو کہ وہ تمہارے پاس آکر دین سیکھیں۔اور مرکز میں تم ایک ایسی جماعت تیار کرو جو باہر جائے اور لوگوں کو دین سکھائے۔تحریک جدید ان دونوں مقاصد کو پورا کرتی ہے۔تیرہ سو سال کے عرصہ میں بعد از زمانہ نبوت صحابہ کے وقت میں مجبوراً اور ان کے بعد مسلمانوں کی غفلت کی وجہ سے ہمیں یہ چیز نظر نہیں آتی۔آج صرف ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق ہے۔یہ کتنا عظیم الشان کام ہے۔اس ایک کام کی وجہ سے تمہیں دوسروں پر فضیلت ہو جاتی ہے اور تمہارے مقابلہ میں کوئی اور ٹھہر نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مصری لوگ اگر چہ ہم سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔ہمارے ساتھ اُن کے تعلقات قائم نہیں اور اس وجہ سے وہ عام طور پر ہماری مخالفت کرتے ہیں۔لیکن متواتر کچھ عرصہ کے بعد مصری اخبارات میں ایسے مضامین نکلتے رہتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ 1300 سال تک کسی نے وہ کام نہیں کیا جو آج جماعت احمد یہ کر رہی ہے۔حال ہی میں چودھری ظفر اللہ خان صاحب اور جماعت احمدیہ کے خلاف مصر کے مفتی اعظم نے فتویٰ دیا ہے۔ایک شخص نے اپنے اخبار میں اس کے متعلق ایک مضمون لکھا۔مگر ایک طرف وہ اس فتوی کی تائید کی کرتا ہے اور دوسری طرف یہ کہتا ہے کہ جماعت احمد یہ دنیا میں ایک واحد جماعت ہے جو تبلیغ کام کر رہی ہے۔اس کے ہندوستان اور دوسرے ممالک میں کئی مبلغ ہیں جو یہ کام کر رہے ہیں۔اگر چہ اُس نے جھوٹ کو عظمت دی ہے لیکن ساتھ ہی اُسے یہ اقرار کرنا پڑا ہے کہ تبلیغ صرف جماعت احمد یہ ہی کر رہی ہے۔اور یہ ایک فضیلت ہے جو خدا تعالیٰ نے تمہیں دوسرے منہ پر دی ہے۔اور یہ فضیلت ایسی ہے کہ لوگ اس کی نقل بھی نہیں کر سکتے۔اب احراری شور مچارہے ہیں کہ مسلمان ایک کروڑ روپیہ چندہ دیں تا مبلغ تیار کئے جائیں اور یہ مبلغ دوسرے ممالک میں جا کر احمدیوں کے خلاف پروپیگنڈا کریں۔مگر یہ لوگ اپنے گھر کیا کر رہے ہیں؟ اس کا اس امر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنرل نجیب جو موجودہ مصری حکومت کا ہیڈ ہے اعلان کرتا ہے کہ مسلمانو! تم خدا کے لئے ہماری اس بات میں مدد کرو کہ ہم لوگوں کو بتائیں کہ اسلام نرمی کرنے والا اور رحم کرنے والا مذہب ہے ، وہ جبر نہیں کرتا۔اور ملکوں کے لوگ