خطبات محمود (جلد 33) — Page 248
1952 248 خطبات محمود نہیں۔چنانچہ دیکھ لو عاشقوں نے معشوقوں کے لئے اپنی جانیں دی ہیں اور کثرت والوں نے کی تھوڑی تعداد والوں کو غرور میں آکر مارا ہے۔پس خدا تعالیٰ کی یہ تقدیر ہے جو بدل نہیں سکتی۔تم کوئی نئی جماعت نہیں جو اقلیت میں ہو۔کثرت والے کہتے ہیں ہم تمہیں اقلیت بنادیں گے۔ہم کہتے ہیں بنانے کا کیا سوال ہے۔ہم تو پہلے ہی اقلیت میں ہیں کیونکہ ہم تھوڑے ہیں۔جس چیز کا کی ہمیں انکار ہے وہ یہ ہے کہ ہم وہ اقلیت نہیں جس کے معنی غیر مسلم کے ہیں۔کیا مسلمان ہندوستان کی میں اقلیت میں نہیں ؟ ہندوستان میں ہندو زیادہ ہیں اور مسلمان کم ہیں۔پھر اگر پاکستان میں کوئی نا جائز سلوک اقلیت سے ہو سکتا ہے تو کیا وہی سلوک ہندوستان میں مسلمانوں سے بھی ہوسکتا ہے؟ ؟ یا چین میں مسلمانوں سے ہو سکتا ہے؟ اگر اقلیت پر سختی کرنا جائز ہے تو پھر وہی سلوک انگلستان میں کمی بھی مسلمانوں سے جائز ہے۔یہ کتنی بے حیائی ہے کہ ایک قوم متمدن ہونے کا دعوی بھی کرے اور کی پھر وہ یہ خیال کرے کہ اگر وہ اقلیت والوں سے اپنی کثرت کی وجہ سے کوئی بُر اسلوک کرتی ہے تو جائز ہے لیکن دوسری شریف حکومتوں سے جہاں وہ قوم خودا قلیت میں ہے یہ امید رکھے کہ وہ اس سے ایسا سلوک نہیں کرے گی۔کتنے تعجب کی بات ہے کہ اسلام جو سب سے زیادہ شرافت سکھا تاج ہے اس کی طرف منسوب ہونے والے آج غیر قوموں کی شرافت سے تو ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ملک میں تھوڑے ہیں اس لئے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کی کرو لیکن اپنے ملک میں تھوڑوں پر ظلم کرنا چاہتے ہیں اور تھوڑ اسمجھ کر ان کو آزادی سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔کیا یہ شرافت ہے کہ ہم اقلیت سے جو سلوک کرتے ہیں وہی سلوک اگر وہ ممالک ہم سے کریں جہاں ہم اقلیت میں ہیں تو اُن کا یہ طریق جائز ہوگا۔لیکن ہم اسے جائز نہیں کہتے۔جو سلوک ہندوستان میں مسلمانوں سے ہو رہا ہے کوئی احمدی ہو یا غیر احمدی اسے بُرا مناتا ہے کیونکہ مسلمان بھی حکومت کے اعضاء ہیں اور حکومت میں سب کو برابر ہونا چاہیے۔یہی سلوک پاکستان میں بھی ہونا چاہیے۔جو شخص لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله پر ایمان رکھتا ہے اور اُس کا قرآن کریم کے احکام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پر ایمان ہے وہ مسلمان ہے۔اور پھر جتنا جتناوہ احکام قرآن اور احکامِ رسول پر عملاً ایمان لاتا ہے اُتنا اتنا وہ حقیقتا مسلمان ہے۔لیکن جب وہ جی منہ سے کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں تو وہ ظاہر میں سو فیصدی مسلمان ہے۔کیونکہ وہ منہ سے کہتا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔اور نام کے لحاظ سے منہ سے کہنا کافی ہے اور عمل حقیقت کے لحاظ