خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 220

1952 220 خطبات محمود نے بغیر کسی گھبراہٹ کے فرمایا اللہ ! یعنی اللہ مجھے بچا سکتا ہے۔یہ بظاہر ایک لفظ تھا لیکن جو یقین اور وثوق اور ایمان اس کے پیچھے تھا اُس نے اُس پر ایسا اثر کیا کہ اُس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جلدی سے وہ تلوار پکڑ لی اور کھڑے ہو گئے اور فرمایا اب تم بتاؤ تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ اس نے کہا حضور ہی رحم فرما ئیں تو میری جان بچ سکتی ہے ورنہ نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے میری زبان سے اللہ کا لفظ سنا اور پھر بھی نہ سمجھا کہ تمہیں اللہ ہی بچا سکتا ہے میں نہیں بچا سکتا۔پھر آپ نے اسے معاف فرما دیا اور وہ کی ایمان لے آیا۔3 اب دیکھو وہ شخص آپ کا سخت مخالف تھا اور آپ کو قتل کرنے کے لئے کئی منزلیں طے کر کے آیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے ایماندار بنا دیا۔غرض ایمانیات میں اس قسم کی بہت سی کتی مثالیں ملتی ہیں۔ایک شخص دشمن ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ اُسے دوست بنا دیتا ہے۔اسی قسم کا ایک اور واقعہ بھی تاریخ میں آتا ہے۔فتح مکہ کے بعد جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین کے لئے تشریف لے گئے تو دو ہزار کفار بھی لشکر میں شامل ہو گئے۔انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہمیں بھی اپنے لشکر میں شامل کر لیں ، ہم وہاں اپنے جوہر دکھا ئیں گے۔جب دشمن نے آپ پر حملہ کیا تو ان سے برداشت نہ ہوسکا ، اُن کے پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ پیچھے بھاگے۔اُن کے بھاگنے کی وجہ سے مسلمانوں کے گھوڑے بھی بھاگ نکلے۔یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک وقت میں صرف بارہ آدمی رہ گئے پھر ایک ریلا آیا تو یہ بارہ آدمی بھی پیچھے دھکیل دیئے گئے۔اس وقت ایک شخص جس کا نام غالباً ابوسفیان تھا۔( یہ ابو سفیان وہ شخص ہے جس کے پاس کعبہ کی کنجی تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فتح مکہ کے بعد کعبہ کی کنجی اسی کے سپرد کی تھی اور ترکوں کے وقت تک اسی کی اولاد کے پاس کنجی چلی آئی ہے۔اب پتا نہیں ابن سعود کی حکومت نے وہ کنجی اس قبیلہ سے واپس لے لی ہے یا نہیں۔اگر کوئی شخص کعبہ کی زیارت کرنا چاہتا تھا تو اس سے کنجی لیتا تھا اور زیارت کے بعد اسے واپس کر دیتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک دفعہ کعبہ کی زیارت کرنی چاہی تو اس کی سے کنجی لی اور زیارت کی۔وہ بظاہر ایمان لے آیا تھا لیکن اس کی نیت یہ تھی کہ اگر موقع ملا تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دے گا۔وہ کہتا ہے میں بھی اُس وقت قریب تھا اور اس تاک می میں تھا کہ اگر موقع مل جائے تو آپ پر حملہ کر دوں۔میں نے میدان خالی پایا تو آپ کے قریب کی