خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 219

1952 219 خطبات محمود کرتے تالوگ ان کے استقبال کے لئے مناسب تیاری کر لیں۔بادشاہ اس قاعدہ کے مطابق شہر کے باہر کچھ فاصلہ پر ٹھہر گیا۔ولیعہد کی طرف سے بادشاہ کو ایک پر تکلف دعوت دی گئی۔مرید کی حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے پاس آئے اور عرض کیا حضور ! اب تو بادشاہ شہر کے بالکل قریب آگیا ہے اور صبح شہر میں داخل ہو جائے گا۔آپ نے پھر یہی جواب دیا کہ ہنوز دلی دور است " رات کی کو بادشاہ کے اعزاز میں اور مہم کو کامیابی سے سر کرنے کے سلسلہ میں خوشی کا اظہار کرنے کے لئے جشن منایا گیا اور اس کا انتظام محل کی چھت پر کیا گیا۔شاید گرمی کا موسم تھا جس کی وجہ سے ایسا کی کیا گیا۔بہر حال بادشاہ کی مقبولیت کی وجہ سے لوگوں نے اس قدر دعوت نامے لئے کہ چھت کی گر گئی۔اور بادشاہ اُس چھت کے نیچے دب کر ہلاک ہو گیا۔پس بعض دفعہ خدا تعالیٰ اپنا فضل اس رنگ میں بھی نازل کرتا ہے۔لیکن کبھی وہ مخالفین کے دلوں کو ایمان سے بھر دیتا ہے اور وہ ایمان لا کر متبعین میں شامل ہو جاتے ہیں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرا شیطان مسلمان ہو گیا ہے۔2 یعنی جو بات بھی وہ میرے دل میں ڈالتا ہے وہ ہدایت کی ہوتی ہے۔اسی طرح ایک دفعہ جب آپ ایک جنگ سے واپس کوٹے تو ایک شخص جس کا بھائی ایک جنگ میں مارا گیا تھا اور اُس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے بھائی کا بدلہ لے گا وہ آپ کے ساتھ آیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بھائی کے بدلہ میں رسول کریم کی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرے گا۔صحابہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اکیلا نہیں رہنے دیتے تھے۔وہ شخص کئی منزلیں آپ کے ساتھ ساتھ آیا لیکن وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہوسکا۔ہر گھڑی اُس نے صحابہ کو آپ کی حفاظت کرتے ہوئے پایا۔جب قافلہ مدینہ کے قریب پہنچا تو صحابہ سے کچھ غفلت ہوئی انہوں نے خیال کیا کہ اب ان کا اپنا علاقہ ہے دشمنوں کا نہیں۔اس لئے وہ باغ میں اردگرد پھیل گئے اور سو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایک جگہ لیٹ گئے اور صحابہ نے پہرہ کی کوئی ضرورت نہ سمجھی۔انہیں کیا پتا کہ دشمن چوری چوری ساتھ آیا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آرام فرمارہے تھے کہ وہ شخص آپ کے پاس آیا۔اس نے آپ کی تلوار اٹھائی ، اُسے میان سے باہر نکالا اور آپ کو جگا کر کہا میں فلاں شخص ہوں۔آپ کے ساتھیوں نے میرے بھائی کو مارا ہے میں اس کا بدلہ لینے کے لئے آپ لوگوں کے ساتھ ساتھ آیا ہوں۔اب بتائیں آپ کو میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی