خطبات محمود (جلد 33) — Page 191
1952 191 خطبات محمود جو بڑی سخت چیزیں کھا جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص پیرا نامی تھا جو پہاڑی تھا۔نقرس کی وجہ سے اس کے گھٹنے جُڑ گئے تھے۔اُس کے رشتہ داروں نے کہیں سے سنا کہ حضرت مرزا صاحب بڑے اچھے آدمی ہیں۔کھانا بھی گھر سے دیتے ہیں اور علاج بھی کرتے ہیں۔چنانچہ وہ اسے علاج کے لئے قادیان لے آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ اس کا علاج کریں۔آپ نے فرمایا اس کی بیماری بہت پرانی ہے اس کے لئے لمبائی علاج درکار ہے۔انہوں نے کہا اچھا آپ علاج شروع کر دیں چنانچہ آپ نے علاج شروع کی کر دیا۔لیکن وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے۔آپ علاج کرتے رہے۔جب وہ اچھا ہو گیا اور کی اس کے رشتہ داروں نے سنا کہ پیرا تندرست ہو گیا ہے تو وہ اُسے لینے کے لئے آگئے۔پہاڑیوں کو آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پیرا جاہل تھا لیکن جب اُس کے رشتہ دار اُسے لینے کے لئے آگئے تو اُس نے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ بیماری میں جو شخص میرے کام آیا ہے وہی میرا رشتہ دار ہے۔چنانچہ وہ قادیان میں ہی رہا اور وہیں فوت ہوا۔وہ بڑا مضبوط کی نوجوان تھا۔اُس کا جسم اتنا قوی تھا کہ اُسے مٹی کے تیل سے بھی طاقت حاصل ہوتی تھی اور وہ کہا تجھے کرتا تھا کہ تیل مٹی کا ہو یا سرسوں کا اس میں فرق ہی کیا ہے ، ایک ہی چیز ہے۔جب اُس نے یہ کی بات کہنی تو لوگوں نے کہنا اچھا مٹی کا تیل پی جاؤ تو وہ مٹی کا تیل پی لیتا تھا اور وہ اس سے بیمار نہیں ہوتا تھا۔باہر سے لوگ آتے اُسے چار آنے کے پیسے دیتے اور کہتے مٹی کا تیل پی کے دکھاؤ تو وہ پی جا تا۔بلکہ وہ کہا کرتا تھا اس کا مزہ اچھا ہے چاہے دال میں ڈال کر کھا لو۔چنانچہ وہ دال میں مٹی کے تیل کی بوتل ڈال کر کھا لیتا تھا اور وہ اسے نقصان نہیں دیتا تھا بلکہ اُس کی طاقت کا موجب ہوتا تھا۔غرض جو ان آدمی کو ہر چیز طاقت دیتی ہے۔یہی حال جوان قوموں کا بھی ہے۔ان کی مثال بھی انسان کی طرح ہی ہے۔ہر دکھ اور ہر تکلیف ان کے لئے کھاد کی طرح ہوتی ہے۔اور تمہاری مثال تو ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو ابھی جوان ہو رہا ہے۔تم تو ابھی پوری جوانی کو بھی نہیں پہنچے۔گجا یہ کہ تم میں بڑھاپے کے آثار پیدا ہو جائیں۔تمہاری عمر ابھی وہ بھی نہیں کہ جب انسان اپنی طاقت کی انتہاء کو پہنچتا ہے۔پھر طاقت کا زمانہ بھی لمبا ہوتا ہے۔اگر انسان 18 سال کا جوان ہوتا ہے تو اس سے ڈیوڑھا عرصہ