خطبات محمود (جلد 33) — Page 122
1952 122 خطبات محمود قد رسفر کے بعد وہ بارہ گھنٹے آرام کرتے ہوں بلکہ جب بھی انہیں کسی اور کام کیلئے بھجوایا جا تا فوراتی تیار ہو جاتے تھے۔تو دنیا میں بڑے بڑے تیز چلنے والے بھی پائے جاتے ہیں اور شدید ترین ئست اور غافل بھی پائے جاتے ہیں۔وہی بچہ جس کو دو قدم چلنے پر روٹی یا پھل یا پھول انعام کے طور پر دیا جاتا ہے بعد میں ایک بڑا سیاح بن جاتا ہے اور دو تین سو میل دو چار دن میں پیدل چ سفر طے کر لیتا ہے۔اب غور کرو اتنا تیز چلنے والا کون تھا ؟ وہی تھا جو کل ایک قدم بھی انعام کے کی لالچ کے بغیر نہیں اٹھا سکتا تھا۔تو اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولِى الالباب - انسان دیکھتا نہیں کہ زمین و آسمان میں ایک تفاوت پایا جاتا ہے۔بلندی کے بعد بلندی اور اونچائی کے بعد اونچائی آتی ہے۔یہ نشیب اور فراز ، یہ پستی اور بلندی کیا چیزیں ہیں؟ یہ قدرت کے اشارے ہیں۔اس امر کی طرف کہ بڑھتے چلے آؤ، ترقی کرتے چلے جاؤ۔پہاڑوں پر ہم جاتے ہیں تو اسی طرح اس کی چوٹیوں پر پہنچتے ہیں۔اگر یکدم دو میل سیدھا اونچائی پہاڑ انسان کے سامنے آجائے تو اس کی ہمت پست ہو جائے اور وہ اس پر چڑھنے کا نام بھی نہ لے۔مگر اب کیا ہوتا ہے پچاس ساٹھ فٹ اونچا ایک ٹیلا ہمارے سامنے آتا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ کہ یہ ٹیلا تو کچھ زیادہ اونچا نہیں آؤ ہم اس پر چڑھ کر نظارہ دیکھیں۔چنانچہ ہم اُس ٹیلے پر چڑھ جاتے ہیں۔وہاں پہنچتے ہیں تو ایک دوسرا ئیلا نظر آتا ہے۔پھر ہم اُس پر چڑھ جاتے ہیں۔اس کی طرح قدم بقدم ہمارا دل لگتا چلا جاتا ہے اور چوٹی کے بعد چوٹی ہمارے سامنے آتی چلی جاتی ہے ہے۔یہاں تک کہ ہم مونٹ ایورسٹ کی چوٹی پر بھی چڑھ جاتے ہیں جو 29 ہزار فٹ اونچی ہے گو یا پانچ میل لمبی اس کی اونچائی ہے۔اگر اتنی اونچی پہاڑی یہاں ربوہ میں ہی ہو تو کوئی شخص اس پر چڑھنے کی جرات نہ کرے۔لیکن تدریجی طور پر جب ایک بلندی کے بعد دوسری بلندی آتی ہے تو انسان سہولت کے ساتھ ان بلندیوں کو طے کر جاتا ہے۔گویا ایک ٹیلا تحریک پیدا کرتا ہے دوسرے ٹیلے پر چڑھنے کی اور دوسرا ئیلا تیسرے ٹیلے پر چڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔جیسے بچے کو پہلے ایک قدم پر روٹی کا ٹکڑا دیا جاتا ہے۔مگر جب وہ ایک قدم پر چلنے کی استطاعت اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے تو پھر اسے ایک قدم پر نہیں بلکہ دو قدم پر انعام دیا جاتا ہے اور اگر وہ ایک قدم پر کی