خطبات محمود (جلد 33) — Page 121
1952 121 خطبات محمود تنگ آکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن سے کہہ دیا کہ آپ قادیان سے چلے جائیں۔انہیں گو جنون تھا مگر بہر حال عشق والا جنون تھا دشمنی والا جنون نہیں تھا۔انہوں نے پہلے تو اڑنا شروع کیا کہ میں نہیں جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عادت تھی کہ جب کوئی ج تحریر لکھتے نیچے خاکسار غلام احمد لکھا کرتے تھے۔رقعہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میرے ذریعہ سے ہی بھجوایا تھا۔میں نے انہیں رقعہ دیا تو کہنے لگے میں نہیں جانتا مرزا غلام احمد ولد مرزا غلام مرتضیٰ کون ہوتا ہے میں اس حکم کی اطاعت کے لئے تیار نہیں ہوں۔میں نے یہی بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جا کر کہہ دی۔آپ نے قلم اٹھایا اور اپنے نام کے آگے مسیح موعود لکھ دیا۔میں پھر وہ رقعہ لایا تو دیکھ کر کہنے لگے اب تو بڑی مصیبت ہے اب تو قادیان سے جانا ہی پڑے گا۔چنانچہ وہ چل پڑے۔اُس وقت ظہر کا وقت تھا۔ظہر کے وقت و نکلے اور پیدل چل کر جالندھر گئے۔جالندھر سے ہوشیار پور گئے۔ہوشیار پور جا کر پھر قادیان واپس آئے۔مگر قادیان کے قریب پہنچ کر پھر گھبراہٹ میں امرتسر یا لاہور چلے گئے اور تیسرے دن صبح ان سب مقامات کا چکر لگا کر قادیان واپس آگئے۔اور کہنے لگے آئندہ میں آپ کو تنگ نہیں کروں گا مجھے معاف کیا جائے۔میں قادیان سے باہر نہیں رہ سکتا۔غرض دو تین دن میں و قادیان سے جالندھر گئے۔جالندھر سے ہوشیار پور گئے۔ہوشیار پور سے واپس آکر پھر امرتسر یا لاہور گئے اور پھر واپس قادیان آگئے۔گویا قریب دو تین سومیل کا سفر انہوں نے طے کرلیا۔ان کی انہی حرکتوں کی وجہ سے ایک دفعہ گورداسپور کے مقدمہ میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام و ہیں تشریف رکھتے تھے آپ نے فرمایا یہ روز مجھے دق کرتے ہیں ان کا کوئی انتظام کرنا چاہیے۔چنانچہ وہ دوست جو ساتھ تھے انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے ان سے کہا کہ قادیانی سے ایک ضروری کتاب لانی ہے آپ جائیں اور کتاب لے آئیں۔گورداسپور سے قادیان 16 میل کے قریب ہے۔عشاء کے وقت وہ گئے اور رات کے بارہ بجے کتاب لے کر واپس آگئے۔لوگوں نے تو یہ تدبیر اس لئے کی تھی کہ کسی طرح ان کو وہاں سے نکالیں مگر وہ راتوں رات پھر واپس پہنچ گئے۔اس پر دوست پھر آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے۔وہ ہنس کر کہنے لگے مجھے پتا ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے کیوں بھجوایا تھا۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ اب میں کوئی شرارتی نہیں کروں گا۔غرض بتیس میل سفر انہوں نے دو چار گھنٹوں میں کر لیا۔اور پھر یہ بھی نہیں کہ اس کی وہ