خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 112

1952 112 خطبات محمود کالجوں میں تو یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں مصنف کی کتاب نہ پڑھاؤ فلاں کی پڑھاؤ وہ زیادہ اچھی ہے۔لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اب قرآن پڑھانا چھوڑ دو یا حدیث پڑھانا چھوڑ دو اور ان کی بجائے فلاں فلاں کتابیں پڑھاؤ۔پس جبکہ دینیات کا کورس بدلا نہیں جاتا اور ساری عمر اساتذہ کو قرآن ہی پڑھانا پڑتا ہے یا حدیثیں ہی پڑھانی پڑتی ہیں تو ان کے ذہن میں تو یہ علوم اس قدر راسخ ہونے چاہئیں کہ سب باتیں انہیں زبانی یاد ہوں۔بے شک نئی نئی تحقیقا تیں بھی ہوتی ہیں لیکن جہاں تک طالب علموں کا تعلق ہے اُن کو پڑھانے والی باتیں اساتذہ کو حفظ ہونی چاہئیں۔اسی طرح حدیث ہے۔اس میں بے شک باریک اور نازک مسائل کی بحث بھی آتی ہے لیکن حدیث کے موٹے موٹے مسائل دو تین سال میں اُستاد کو اس طرح حفظ ہو جانے چاہیں کہ اگر کتاب اُس کے سامنے نہ ہو تب بھی وہ پہلا دریغ ان کو پڑھاتا چلا جائے۔ہم بچپن میں پڑھا کرتے تھے تو ہمارے جغرافیہ کے ایک استاد تھے میں اُن کا نام نہیں لیتا وہ یہ دکھانے کے لئے کہ انہیں جغرافیہ میں کتنا کمال حاصل ہے کہا کرتے تھے کہ نقشہ لٹکاؤ۔میں آنکھیں بند کر کے کھڑا ہو جاتا ہوں۔تم کسی شہر کا نام لو میں اپنے پاؤں کے اشارہ سے تمہیں بتا دوں گا کہ وہ فلاں جگہ شہر ہے۔چنانچہ ہم اسی طرح کرتے وہ آنکھیں بند کر کے دوڑتے ہوئے آتے اور پیر اٹھا کر وہاں لگا دیتے۔مگر بچپن کی عمر شرارتی ہوتی ہے۔جب وہ کہتے کہ کسی شہر کا نام لو تو بعض لڑکے کسی ایسے شہر کا نام لے دیتے جو نقشہ میں بہت اونچا ہو۔مثلاً ولاڈی واسٹک 1 ( Vladivostok )۔اب ولاڈی واسٹک نقشہ کے اوپر کی جہت میں ہے۔جب وہ استاد یہ لفظ سن کر دوڑ کر نقشہ کی طرف آتے تو بعض دفعہ جوش سے پاؤں اٹھانے کی وجہ سے وہ گر جاتے اور لڑکے ہنسنے لگ جاتے۔بہر حال اُن میں یہ کمال تھا کہ وہ آنکھیں بند کر کے آتے اور شہر بتا دیتے۔چونکہ سکولوں کا کی جغرافیہ ایک محدود مضمون ہے اور وہی اساتذہ کو بار بار پڑھانا پڑتا ہے اس لئے دو تین سال کے بعد انہیں ان مضامین کی تیاری کے لئے کوئی ذہنی کوفت برداشت نہیں کرنی پڑتی اور ان کے پاس کی کافی وقت اپنے مطالعہ کو وسیع کرنے اور طلباء کی نگرانی کرنے کے لئے بیچ جاتا ہے۔پس میں اس خطبہ کے ذریعہ سکولوں اور کالجوں اور دینیات کے کالجوں اور ان کے اساتذہ کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ طلباء کی نگرانی کرنی چاہیے اور ان کے اندر محنت کی عادت اور قربانی اور ایثار کی عادت پیدا کرنی چاہیے۔اگر افراد میں محنت اور