خطبات محمود (جلد 33) — Page 97
1952 97 خطبات محمود اور عقل مند حقیقت تک پہنچ جاتا ہے۔پس چاہے ایک عقل مند ہو، دس عقل مند ہوں یا سو عقلمند کی ہوں وہ ایک ہی بات کریں گے۔اور اس کے مقابلہ میں چاہے سو بیوقوف جمع ہو جا ئیں ان کی تج باتیں بیوقوفی پیدا کریں گی۔تم دس کھوٹے پیسوں سے ایک کھرا پیسہ نہیں بنا سکتے۔تم دس جھوٹ کی سے ایک بچ نہیں بنا سکتے۔اسی طرح جب تک کسی قوم کے افراد اپنے اندر صحیح تبدیلی پیدا نہ کریں ، وہ اپنے اندر سچا تقویٰ پیدا نہ کریں، وہ اپنے اندر درمیانہ روش کی روح پیدا نہ کریں، وہ اپنے اند ر سو چنے اور فکر کرنے کی روح پیدا نہ کریں یا وہ اپنے اندر عقل اور دانائی سے کام لینے کی روح پیدا نہ کریں اُس کے نمائندے بھی حقیقت صحیح رستہ اور سچائی سے ایسے ہی دور ہونگے جیسے اُس جماعت کے افراد جس کا کوئی نمائندہ نہیں ہوتا۔پس یہ جو ہم شوری کرتے ہیں وہ اس غرض کو تو پورا کرتی ہے کہ اگر جماعت کے افراد صحیح ہوں تو شوریٰ مفید ہوسکتی ہے۔لیکن اس غرض کو پورا نہیں کرتی کہ اس کے افراد ٹھیک ہوں۔افراد کا ٹھیک ہونا ان کے اپنے ارادے اور کوشش کے صحیح ہونے پر مبنی ہے۔یہ وہ کام ہے جو آپ لوگ کر سکتے ہیں کوئی نمائندہ نہیں کر سکتا۔دل کی اصلاح کے لئے انسان کی اپنی جدو جہد کی ضرورت تھی ہے، اس کی اپنی کوشش کی ضرورت ہے۔اگر تم ٹھیک ہو جاؤ تو تمہاری شوری اور مشورے بھی کچ ٹھیک ہو جائیں اور پھر صحیح مشورے پورے بھی ہو جائیں۔کیونکہ اگر تم صحیح ہو گے تو تم اپنے مشوروں کو پورا کرنے کی کوشش کرو گے۔لیکن اگر افراد صیح نہیں تو نمائندے چونکہ انہی میں سے ہوں گے اور وہ ٹھیک نہیں ہوں گے اس لئے جب نمائندہ عقل و خرد، تقویٰ اور میانہ روی سے عاری ہو تو اُس کا مشورہ بھی ٹھیک نہیں ہوگا۔اور اگر اتفاقاً کوئی مشورہ ٹھیک ہو بھی تو اُس کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔اگر تمہاری اصلاح نہیں ہوگی تو تمہارا سارا وقت خراب ہو گا۔اور اگر نمائندے غلط مشورہ دیں گے تو اُس پر عمل بھی نہیں ہوگا۔یہ ساری گنجی فرد کے ہاتھ میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام انفرادیت پر خاص زور دیتا ہے۔کیپٹل ازم اور کمیونزم میں جوٹکراؤ ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ انفرادیت اور اجتماعیت میں توازن قائم نہیں رکھا جاتا۔اسلام انفرادیت کو اس نقطہ نگاہ سے نہیں لیتا جس نقطہ نگاہ سے اسے کمیونزم لیتی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ جو قوم انفرادیت کو مار دیتی ہے اُس میں ترقی کی روح باقی نہیں رہتی۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ تم ایک پیسے کو دھگا دیتے ہو تو کی وہ کچھ دُور تک چلا جاتا ہے۔لیکن یہ ایک وقت تک ہوتا ہے۔ہر ایک شخص جب پیسے کو دھکا دے گا ج