خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 84 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 84

1952 84 خطبات محمود امریکہ کتنا امیر ملک ہے اس کا کوئی شہر ایسا نہیں جو ان باتوں میں ربوہ کا مقابلہ کر سکے۔واشنگٹن امریکہ کا دارالحکومت ہے ، نیو یارک سب سے بڑا شہر ہے ، شکاگو تجارتی اور صنعتی مرکز ہے، اسی طرح دوسرے بڑے بڑے شہر ہیں لیکن ان میں ایک بھی ایسی مثال نہیں مل سکتی کہ مالدار لوگ غرباء کی اس رنگ میں نگرانی کر رہے ہوں جیسی نگرانی ربوہ میں ہو رہی ہے یا اتنی فیصدی مدد کر رہے ہوں جتنی فیصدی مد در بوہ میں کی جاتی ہے۔امریکہ کی حکومت ہم سے زیادہ مالدار ہے۔امریکن لوگ ہم سے زیادہ مالدار ہیں۔اور مالدار بھی معمولی نہیں۔ان میں ایسے ایسے مالدار بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ربوہ کی ساری زمین اور سارے مکان بھی خرید لے تو اُس کے خزانے میں اتنی بھی کمی نہ آئے جتنی کمی ہمارے ملک کے ایک مالدار کی کی جیب میں مٹھائی خرید لینے سے آتی ہے۔لیکن پھر بھی امریکہ میں ہزاروں واقعات ایسے پائے جاتے ہیں کہ لوگوں نے فاقہ کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ وہ بیمار تھے اور علاج کے لئے روپیہ نہ مل سکا خود کشی کر لی۔میں یہ نہیں کہتا کہ ربوہ میں غرباء ، یتامی اور بیوگان کی سو فیصد ی مدد کی جاتی ہے۔ہوسکتا ہے کہ کوئی غریب ہو لیکن ہمیں اس سے متعلق کوئی اطلاع نہ مل سکی ہو یا اس کا معاملہ ہماری سمجھ میں نہ آیا ہو۔مثلاً ہم سمجھتے ہوں کہ وہ کوئی کام کرنے کے قابل ہے لیکن درحقیقت وہ کام کرنے کے قابل نہ ہو۔اس قسم کی فروگزاشت کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جہاں تک انسانی عقل کا دخل ہے کوئی مثال ایسی نہیں مل سکتی کہ ربوہ میں کوئی معذور آدمی ہو، یتیم ہو، یا کوئی بیوہ عورت ہو اور اُس کی اس حد تک کہ جماعت کی مالی حالت اجازت دے انتہائی مدد نہ کی گئی ہو۔دیکھ لو ہم قادیان سے جب نکلے تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ہماری حالت دوسرے مہاجرین کی نسبت زیادہ خراب تھی۔پھر دوسرے مہاجروں نے یہاں آکر لوٹ مار شروع کر دی لیکن ہم نے لوٹ مار بھی نہیں کی۔تاہم دوسرے مہاجر تو لوٹ مار کے بعد بھی شور مچارہے تھے کہ حکومت ان کی امداد کرے لیکن یہ جماعت احمدیہ کی ہی ہمت تھی کہ اس نے گورنمنٹ سے ایک پیسہ کی بھی درخواست نہ کی۔پھر ہم سارے کے سارے ایک لمبے عرصہ تک لاہور جیسے گراں شہر میں پڑے رہے اور وہاں اتنی تنگی اور ترشی کے ساتھ گزارا کیا کہ مہینوں راشن کو اس طور پر تقسیم کیا گیا کہ ہر ایک فرد کو ایک روٹی فی وقت مل سکتی تھی۔جس کی وجہ سے بڑی عمر کے لوگ تو کیا تی بعض اوقات بچوں کی طرف سے بھی یہ شکایت آتی تھی کہ ان کا پیٹ نہیں بھرتا۔لیکن ہمارا یہی تھی