خطبات محمود (جلد 33) — Page 83
1952 83 (11 خطبات محمود ربوہ کے رہنے والوں کا فرض ہے کہ اپنی مساجد کو آباد رکھیں اور اپنے اندر تعاون ، ہمدردی اور قربانی کی روح پیدا کریں فرموده 4 را پریل 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: آج میں ربوہ کے رہنے والوں کو یا ربوہ میں رہنے کا ارادہ کرنے والوں کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ مرکز میں رہنا جہاں اپنی ذات میں بہت بڑی برکات کا موجب ہوتا ہے وہاں وہ رہنے والوں پر بہت سی ذمہ داریاں بھی عائد کرتا ہے۔لوگوں میں عام طور پر یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے فائدہ کی چیزیں لے لیتے ہیں اور جو فرائض اور ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔فوائد کے لحاظ سے اگر دیکھو تو ربوہ اپنی ذات میں بعض ایسے فوائد رکھتا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان تو الگ رہے دولت مند سے دولت مند ممالک میں کی بھی اس کی مثال نہیں پائی جاتی۔مثلاً یہاں قریباً تمام غرباء ، یتامیٰ اور بیوہ عورتوں کو سوائے اس کی کے کہ کوئی نظر انداز ہو جائے یا اس کا معاملہ ہماری سمجھ میں نہ آئے معقول مدد دی جاتی ہے۔انہیں پہننے کے لئے کپڑے دیئے جاتے ہیں ، غلہ انہیں ملتا ہے، بیمار ہو جائیں تو علاج کے لئے پیسے انہیں ملتے ہیں ، ان کے بچوں کی شادیاں ہوتی ہیں تو اخراجات میں انہیں امداد دی جاتی ہے، بچے پڑھتے ہیں تو کسی نہ کسی رنگ میں ان کی امداد کی جاتی ہے۔بعض لوگوں کو وظائف دیئے جاتے ہیں اور بعض کی فیسیں معاف کر دی جاتی ہیں۔یہ فوائد اور کون سے ملک میں حاصل ہو سکتے ہیں۔