خطبات محمود (جلد 33) — Page 67
1952 67 خطبات محمود دوسروں سے ہمدردی کرنے ، رحم کرنے ، انصاف سے کام لینے اور دوسروں کو اُن کا حق دینے کی کی عادت پیدا ہو گئی ہے تو بے شک تم نے احمدیت سے کچھ حاصل کر لیا ہے۔لیکن اگر یہ چیزیں کی تمہارے اندر پیدا نہیں ہوئیں تو جیسے کیکر سنگھ یا گاما پہلوان کی گشتی دیکھنے کے لئے لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں اسی طرح تم بھی اکٹھے ہو جاؤ گے۔تم بھی کہو گے کہ ہمارا ایک پہلوان آیا ہے چلو اس کی کشتی دیکھ آئیں۔پس چاہے اس کا نام جمعہ رکھ لو ، چاہے اس کا نام عقیدت رکھ لو ، چاہے اس کا نام خلافت رکھ لولیکن ہے یہ وہی کیکر سنگھ اور گاما پہلوان والی بات۔اگر یہ احمدیت والی بات ہوتی تو تم احمدیت والے کام بھی کرتے۔لیکن اگر تم احمدیت کے گروں کے بغیر ا کٹھے ہو جاتے ہو تو کی تمہارے جمعہ میں اکٹھے ہو جانے سے یہی مطلب سمجھا جائے گا کہ گاما پہلوان آیا ہے اور تم اُس کی گشتی دیکھنے کے لئے آئے ہو۔جمعہ اور کشتی میں ایسی صورت میں فرق ہی کیا رہ جاتا ہے۔کی دیکھنے والے بھی جھوٹ بولتے جاتے ہیں اور جمعہ پڑھنے والے بھی جھوٹ بولتے جاتے ہیں۔پس جب تک تم اپنے اندر کوئی خاص تبدیلی پیدا نہیں کرتے احمدیت میں داخل ہونے کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ جنت ایک معمولی چیز ہے ؟ لا اِلهَ اِلَّا اللہ کہہ دیا تو گویا خدا تعالیٰ پر احسان کر دیا اور وہ مجبور ہوگا کہ تمہیں جنت میں لے جائے ؟ کیا تم سورج کو سورج کی کہہ کر انعام مانگا کرتے ہو؟ سورج کو سورج کہنے سے انعام نہیں ملا کرتا۔اسی طرح اگر تم نے کی رسول اللہ کو رسول اللہ کہہ دیا تو تم نے خدا تعالیٰ پر کون سا احسان کیا کہ وہ اس کے بدلہ میں تمہیں جنت دے دے۔کیا تم زمین کو زمین کہہ کر انعام مانگا کرتے ہو؟ کیا تم چاند کو چاند کہہ کر انعام مانگا کرتے ہو؟ یا تمہیں کوئی مکان نظر آئے تو اسے دیکھ کر تم یہ کہتے ہو کہ چونکہ میں نے مکان کو مکان کہہ دیا ہے اس لئے گورنمنٹ مجھے انعام دے دے؟ تم اُس آدمی کو کیا سمجھو گے کہ جو گورنر کو یہ لکھے کہ مجھے ایک گھوڑ ا نظر آیا تھا، میں نے اسے گھوڑا کہہ دیا ہے مجھے دومر بعے دو۔یقینا تم اسے پاگل خیال کرو گے اور کہو گے کہ اگر تم گھوڑے کو گھوڑا نہ کہتے تو اور کیا کہتے۔اگر تم اسے گدھا کہہ دیتے تو لوگ تمہیں پاگل خیال کرتے۔اسی طرح اگر خدا ہے اور وہ ایک ہے اور اس پر زمین اور آسمان دونوں گواہ ہیں تو تم ADATA TALAL AND اللہ کہہ کر اس پر کیا احسان کرتے ہو کہ وہ اس کے بدلہ میں تمہیں جنت دے دے۔انسان کو جنت میں لے جانے والی قربانیاں ہوتی ہیں جو وہ صبح و شام