خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 60

1952 60 خطبات محمود اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عیسائیت کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے بغض رکھتے تھے۔لیکن پھر بھی باوجود سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات کے زور دینے کے مجسٹریٹ نے کہا جس شخص نے عدالت میں سچ بولا ہے میں اُسے کوئی سزا نہیں دوں گا۔چنانچہ اس نے آپ کو بری کر دیا۔اس نے کہا یہ خود ہی گواہ تھے لیکن پھر بھی اقرار کر رہے ہیں۔اس سے زیادہ نیک نیتی اور کیا ہو گی۔میں انہیں سز انہیں دوں گا۔پس سچائی ہمیشہ دل کو موہ لیتی ہے اور یہ عظیم الشان نیکیوں میں سے ہے۔لیکن جس طرح لوگ موت کو بھول جاتے ہیں اسی طرح اسے بھی بھول جاتے ہیں باوجود اس کے کہ یہ ایک یقینی چیز ہے۔آخر سچائی کس چیز کا نام ہے؟ سچائی میں تمہیں کوئی یہ نہیں کہتا کہ پہاڑ کو دو، دریا پار کرو، رات دن ورزش کر و یا فلاں کتاب پڑھتے رہو۔سچائی نام ہے اس چیز کا کہ تم ” ہے" کو ہے کہ دو اور ”نہیں“ کو نہیں کہہ دو۔مثلاً ایک دیوار ہے۔سچائی کہتی ہے کہ جب تم سے کوئی پوچھے کہ یہ کیا چیز ہے؟ تو تم کہہ دو یہ دیوار ہے۔اس میں نہ سائنس پڑھنے کی ضرورت ہے، نہ کسی غور وفکر کی ضرورت ہے اور نہ کسی محنت کی ضرورت ہے۔مثلاً کپڑا ہے۔تمہارے پاس کوئی شخص آئے اور دریافت کرے کہ یہ کیا ہے؟ تو تم کہ دو یہ کپڑا ہے۔یا وہ کہے کہ یہ روشنی کس کی ہے؟ تو تم کہہ دو یہ روشنی سورج کی ہے۔اور یہ بات ہر چھوٹا اور بڑا، جوان اور بوڑھا ، عالم اور جاہل کہہ سکتا ہے اس میں کسی محنت کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی لوگ سچائی سے بھاگتے ہیں۔تم اکثر لوگ ایسے دیکھو گے جو کسی وجہ سے یا بلا وجہ سچ کو چھوڑ دیتے ہیں۔اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ صاف بات کیوں پوشیدہ ہو جاتی ہے اور جھوٹ کہاں سے پیدا ہوتا ہے۔اگر اس چیز پر غور کیا جائے اور وقت پر اصلاح کر لی جائے تو یہ نقص دور ہوسکتا ہے۔شروع میں جھوٹ بچوں میں آتا ہے اور ماں باپ کے ذریعہ آتا ہے۔مثلاً بچہ لیٹا ہوا ہوتا ہے، اُس کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں۔اٹھنا بیٹھنا اسے آتا نہیں۔ماں باپ سمجھتے ہیں کہ یہ کچھ سمجھتا نہیں۔وہ ماں کو دیکھ کر روتا ہے تو باپ ماں سے کہتا ہے تم اس کی نظر سے اوجھل ہو جاؤ تو یہ چُپ کر جائے گا۔بچہ جانتا ہے کہ فلاں عورت میری ماں ہے اور وہ اب چھپ گئی ہے وہ چُپ کر جاتا ہے۔لیکن دراصل یہ جھوٹ ہوتا ہے اور ” ہے“ کو ”نہیں“ کہہ دیا جاتا ہے۔اور بچہ سمجھتا ہے کہ