خطبات محمود (جلد 33) — Page 59
1952 59 خطبات محمود اسی طرح ہماری جماعت میں بھی ایک واقعہ موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر عیسائیوں کی طرف سے ایک مقدمہ چلایا گیا تھا۔شروع شروع میں انگریز قانون کی پابندی کی کمی عادت ڈالنے کے لئے بڑی سختی سے کام لیتے تھے۔آپ نے ایک مضمون لکھا اور چھپوانے کے لئے ایک عیسائی کے پریس میں بھجوایا۔اُس پریس سے آپ عموماً رسالے اور کتب شائع کروایا کرتے تھے۔آپ نے اس مضمون کے ساتھ پیکٹ میں ایک رقعہ بھی ڈال دیا۔آجکل تو ایسا کی کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا جاتا لیکن اُن دنوں اس جرم کی سزا چھ ماہ قید یا پانچ صد روپے جرمانہ تھی۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اُس عیسائی کے بہت بڑے گا ہک تھے لیکن کی چونکہ آپ عیسائیت کے خلاف لٹریچر شائع کروایا کرتے تھے اس لئے اُسے آپ سے بغض تھا۔اس نے سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات کے پاس رپورٹ کر دی۔وہ بھی انگریز تھا اس نے کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔اس مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے بھی ایک انگریز افسر کا تقرر کیا گیا۔آپ کی طرف سے جو وکیل مقرر کیا گیا تھا اُس نے کہا کہ مرزا صاحب آپ نے پیکٹ میں خط ڈالا تھا اور اس عیسائی نے پیکٹ کھولا ہے۔اس بات کا کوئی اور گواہ نہیں۔اس لئے اگر آپ کہہ دیں کہ میں نے خط نہیں ڈالا تو مقدمہ ختم ہو جائے گا۔اس مجرم کے آپ خود ہی گواہ ہیں اور قانون مدعا علیہ کو آزادی دیتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے عدالت میں بیان دے دے۔آپ نے فرمایا جب یہ سچی بات ہے کہ میں نے پیکٹ میں رقعہ ڈالا تھا تو میں جھوٹ کیوں بولوں؟ وہ عیسائی بھی جانتا تھا کہ آپ جھوٹ نہیں بولیں گے اس لئے اس نے حج سے کہہ دیا تھا کہ آپ مرزا صاحب سے ہی پوچھ لیں یہ اس بات کا اقرار کر لیں گے کہ انہوں نے واقع میں پیکٹ میں رقعہ بند کر دیا تھا۔اس کے اشارہ پر سپرنٹنڈنٹ صاحب ڈاک خانہ جات نے بھی کہہ دیا کہ مدعا علیہ سے ہی پوچھ لیا جائے کہ کیا اس نے پیکٹ میں رقعہ بند نہیں کیا تھا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں میں نے رقعہ ضرور ڈالا ہے لیکن وہ رقعہ اس رسالے کے متعلق تھا اور اس کی چھپوائی کے متعلق بعض ہدایات دینی گئی تھیں ، کوئی الگ خط نہیں تھا اور مجھے علم نہیں تھا کہ ایسا کرنا جرم ہے۔اس پر بحث شروع ہوگئی ہی اور سپر نٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات نے کہا کہ یہ لوگ قانون شکنی کے عادی ہیں اسے ضرور سزادی جائے۔حج بھی انگریز تھا، سپرنٹنڈنٹ ڈاک خانہ جات بھی انگریز تھا اور رپورٹ کرنے والا بھی انگریز تھا۔کی