خطبات محمود (جلد 33) — Page 336
1952 336 خطبات محمود چندوں کے لحاظ سے بھی جب میں نے 1934 ء میں تحریک جدید کا اجراء کیا تھا۔اُس وقت جماعت کی مالی حالت آج کی نسبت بہت کم تھی۔اس کی تعداد بھی آج کی نسبت بہت کم کنی تھی۔اب تعداد بہر حال بہت زیادہ ہے اور مالی حالت تو اُس زمانہ کی نسبت بہت اچھی ہے۔لیکن اُس وقت جس طرح تحریک جدید کا خیر مقدم کیا گیا تھا ویسا خیر مقدم اب نہیں کیا جاتا۔اب کی بھی لوگ تحریک جدید میں حصہ لیتے ہیں لیکن زیادہ تر تعداد حصہ لینے والوں کی اُنہی لوگوں کی ہے جنہوں نے شروع میں ہی میری آواز پر لبیک کہا تھا۔بے شک بعد والوں میں بھی جوش ہے لیکن کی اُتنا جوش نہیں جتنا ابتداء میں لوگوں میں پایا جاتا تھا۔اس وقت کام کی ابتداء ہے۔ابھی تک دنیا کی دوارب بیس کروڑ کی آبادی میں ہمارے پچاس مبلغ کام کرتے ہیں۔اگر اس آبادی کے لحج چوتھے حصہ تک بھی ہم خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائیں اور سال میں پچاس کروڑ انسانوں کو چار صفحہ کا اشتہار صرف ایک دفعہ پہنچا ئیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ایک ہزار اشتہار شائع کیا جائے تو اس مج پر بارہ روپے خرچ آتے ہیں۔پھر ان اشتہارات کو لوگوں تک پہنچانے کو لیا جائے تو کل خرچ کی قریباً ہمیں روپے تک آئے گا۔اور اگر ایک لاکھ اشتہارات چھپوائیں تو دو ہزار روپیہ خرچ آئے کی گا۔ایک کروڑ اشتہارات چھپوائیں تو دو لاکھ روپیہ خرچ آئے گا اور اگر پچاس کروڑ اشتہارات کی شائع کریں تو ایک کروڑ روپیہ لگے گا۔یعنی ایک کروڑ روپیہ سے ہم دنیا کی چوتھائی آبادی کو صرف ایک دفعہ چار صفحہ کا ایک اشتہار بھیج سکتے ہیں۔وہ بھی اس امید پر کہ چار میں سے ایک شخص ا۔پڑھے گا اور باقیوں کو سنا دے گا۔اب آپ لوگ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنا بڑا کام ہمارے سامنے ہے۔ابھی تو ہمارا لٹریچر اردو زبان میں بھی مکمل نہیں ہوا غیر زبانیں تو ابھی بالکل تشنہ ہیں۔ابھی تک ہم نے بیرونی ملکوں کے احمدیوں میں اسلام کے موٹے موٹے اصول پھیلائے کی ہیں۔لیکن اب وہ کہتے ہیں ہم موٹے اصول پر کفایت نہیں کر سکتے اب تو تفصیلی احکام بتاؤ ، فقہ لاؤ، ان کتابوں کے ترجمے لاؤ، ابھی ایک ڈاکٹر صاحب جو انگلینڈ میں ہیں اور انہوں نے سوچ سمجھ کر اسلام قبول کیا ہے اُن کا مجھے خط آیا ہے کہ میری بیٹیوں میں سعادت تو ضرور پائی جاتی تھی ہے، اسلام کی طرف انہیں رغبت بھی ہے اور انہوں نے مجھے دیکھ کر اسلام قبول بھی کر لیا ہے لیکن میرے پاس وہ کتابیں نہیں کہ جن سے میں انہیں بتا سکوں کہ ان پر کیا کیا ذمہ داریاں ہیں۔دراصل بات یہ ہے کہ جن چیزوں کی ضرورت پہلے اسلامی دنیا کو تھی اب ان چیزوں کی باہر