خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 263

1952 263 خطبات محمود اسلام ہنسی مذاق کی اجازت دیتا ہے۔مگر اس طرح کہ دوسرے لوگوں کو دھوکا نہ ہو۔عام مجالس کی میں ایسا کرنا مناسب نہیں۔پھر گالی گلوچ پر اُتر آنا اور لڑائی دنگا کرنا تو بہت نا مناسب ہے۔فرض کرو تم نے ایک ہی دن لڑائی جھگڑا کیا اور اُسی دن بعض لوگ تحقیقات کے لئے یہاں آئے کی ہوئے تھے۔تو تم نے بے شک ایک ہی دن لڑائی دنگا کیا لیکن وہ لوگ تو پہلی دفعہ آئے تھے وہ آپ کو دیکھ کر یہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ یہاں لوگ گند بولتے اور لڑتے جھگڑتے ہیں۔پھر فرض کرو کہ تم نے گالی دی یا کسی کے متعلق سخت الفاظ کا استعمال کیا اور بعد میں اِسْتِغْفَار کیا۔لیکن تمہارا اِسْتِغْفَار کرنا اُنہوں نے تو نہیں سُنا۔پس ان چیزوں میں احتیاط اور پر ہیز ہونا چاہیے۔“ الفضل 11 / دسمبر 1952ء) 1 مسلم كتاب المساجد باب النَّهْيُ عَنْ نَشْدِ الضَّالَّةِ (الخ) 2 بخاری کتاب الاذان باب فَضْل صلوة الجَمَاعَة 3:3 صحیح مسلم کتاب اللباس والزينة باب النهي عن الجلوس في الطرقات و اعطاء الطريق حقه 4 ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى صنائع المعروف میں تبسمک فی وجه اخیک لک صدقۃ“ کے الفاظ ہیں۔:5: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمُ ثَلَثَ مَرَّتٍ مِنْ قَبْلِ صَلوةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُوْنَ ثِيَابَكُمْ مِنَ الظَّهِيرَةِ وَمِنْ بَعْدِ صَلوةِ الْعِشَاءِ وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِيْنَ مِنْ (60۔59:1) قبلهم (النور: 59، 60 ) صحیح بخارى كتاب الاعتكاف باب زيارة المرأة زوجها في اعتكافه -