خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 10 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 10

1952 10 خطبات محمود ساٹھ سال باقی تھے۔لیکن جب وہ ایک سال کا ہو گیا تو اس کی ایک سال عمر گھٹ گئی۔جب وہ مجھ دو سال کا ہو گیا تو اس کی دو سال عمر گھٹ گئی۔جب وہ دس سال کا ہو گیا تو اس کی دس سال عمر گھٹ گئی۔جب وہ بیس سال کا ہو گیا تو اس کی بیس سال عمر گھٹ گئی۔غرض ہر وقت جو اس پر گزرتا جی ہے وہ اس کی عمر کو گھٹاتا ہے۔اسی طرح ہماری زندگی ہے۔ہمارے بہت اوقات یونہی گزر جاتے ہیں اور ہم خیال تک نہیں کرتے کہ ہمارا وقت ضائع ہو رہا ہے۔مثلا کل مجھے خیال آیا کہ کسی وقت ہم جلسہ سالانہ کی تیاریاں کر رہے تھے۔رات دن کا رکن اس کام میں لگے ہوئے تھے اور خیال کر رہے تھے کہ جلسہ سالانہ آئے گا تو مہمان آئیں گے۔ان کے ٹھہرانے اور ان کی روحانی اور حج جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان ہم نے کرنا ہے۔وہ دن آئے ، دوست آئے ، ہم سے ملے جلے اور چلے بھی گئے۔ہم دل میں خوش ہوئے کہ ایک سال ختم ہو گیا ہے۔مگر سوچنے والی یہ ا بات تھی کہ ہم نے نئے سال کو کس طرح گزارنا ہے۔جو سال گزر گیا وہ تو کوتاہیوں سمیت گزر گیا اصل چیز تو آنے والا سال ہے۔کل مجھے خیال آیا کہ یا تو ہم اتنے جوش اور زور وشور سے آئندہ جلسہ کی تیاریاں کر رہے تھے اور یا اب اس جلسہ پر چودہ دن گزر گئے ہیں اور ابھی ہم بے کار بیٹھے ہیں۔چودہ دن کے معنی دو ہفتے کے ہیں۔52 ہفتوں کا سال ہوتا ہے۔دو ہفتے گزر جانے کا تج مطلب یہ ہوا کہ سال کا 26 واں حصہ گزر گیا۔لیکن ابھی کئی لوگ کہتے ہیں کہ وہ جلسہ سالانہ کی می کوفت دور کر رہے ہیں۔دو ہفتے اور گزر گئے تو سال کا تیرھواں حصہ گزر جائے گا۔لیکن نئے کی سال کے لئے شورا شوری شروع نہیں ہوگی۔چودہ دن اور گزرجائیں گے تو سال کا گیارہ فیصدی حصہ گزر جائے گا۔اور چودہ دن اور گزر گئے تو سال کا پندرہ فیصدی حصہ گزر جائے گا۔غرض بہت تھوڑی تھوڑی غفلت کے ساتھ ایک بہت بڑی چیز ہمارے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔پس ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہیں۔ہر سال جو ہم پر آئے بجائے پچھلے سال کے ہم آئندہ سال پر نظر رکھیں۔ہر دن ہم سوچیں کہ کام کے 365 دنوں میں سے ایک دن گزر گیا ہے ہم نے کس قدر کام کرنا تھا۔اس میں سے کس قدر کام ہم نے کر لیا ہے اور کس قدر کام کرنا باقی ہے۔اگر ہم اس طرح غور کرنا شروع کر دیں تو ہم اپنے وقت کو پوری طرح استعمال کر سکتے ہیں۔بشرطیکہ ہم سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔بعض لوگ محض رسم و رواج کے ماتحت کسی کی