خطبات محمود (جلد 33) — Page 11
1952 11 خطبات محمود چیز کے متعلق سوچتے ہیں۔بدقسمتی سے مسلمانوں میں نماز کا خیال جاتا رہا ہے۔جو نماز پڑھتے ہیں تجھے ان میں سے بھی ایک حصہ رسم و رواج کے طور پر نماز کے لئے جاتا ہے۔ان میں عملی قوت نہیں مجھے ہوتی یا وہ عملی قوت پیدا کرنا نہیں چاہتے۔جن لوگوں میں عملی قوت ہوتی ہے وہ اس صحیح منبع کی تھی طرف توجہ نہیں کرتے جہاں سے انہیں روشنی ملتی ہے۔وہ اپنا وقت محض ضائع کرتے ہیں۔لیکن جو لوگ صحیح منبع کی طرف توجہ کرتے ہیں ، اُس کی قدر کو پہچانتے ہیں ، پھر اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔اگر یہی حصہ اس طرف توجہ کرنے لگ جائے تو کام ہو سکتا ہے۔بجائے ماضی کے اگر کوئی مستقبل کے ایک سال کو اپنے سامنے رکھ لے اور غور کر لے کہ اُس پر کیا کیا ج ذمہ داریاں ہیں کس قدر فرائض کو اس نے ادا کر لیا ہے اور کس قدر فرائض کا ادا کرنا ابھی باقی ہے۔پھر کیا ان فرائض کو ادا کرنے کے لئے کافی وقت موجود ہے؟ تو لازماً وہ عمل کرنے میں چست ہو جائے گا۔اگر انسان ہمت کے ساتھ کھڑا ہو جائے اور یہ خیال کر لے کہ اس نے کام کرنا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے وہ نو جوان بوڑھے اور بچے جن کے اندر سنجیدگی پائی جاتی ہے، جو کی سمجھتے ہیں کہ احمدیت کو قبول کر کے وہ اپنے آپ پر ایک اہم فرض عائد کر لیتے ہیں اگر اپنے آپ کو اس رنگ میں ڈھال لیں تو شاید ہمارا یہ سال پہلے سال سے بہتر ہو۔لیکن اگر وہ اس نکتہ کو نہ سمجھیں ، یونہی شام آئے اور گزر جائے۔دن آئے اور گزر جائے ، نہ دن ان کے اندر کوئی حرکت پیدا کرے اور نہ رات ان کے اندر کوئی افسردگی یا بے چینی پیدا کرے تو انہیں سمجھ لینا کی چاہیے کہ وہ اپنے اس مقصد سے دور جا رہے ہیں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے انہیں پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ ہماری آنکھوں میں نور پیدا کرے، ہمارے دل و دماغ میں روشنی پیدا کرے اور ہمیں صحیح جد و جہد کی توفیق عطا فرمائے۔“ ( الفضل 3 فروری 1952ء)