خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 188

1952 188 خطبات محمود اجتماع اور اتحاد اور اس کا حملہ مومنوں کے دلوں کو کمزور کرتا یہ خبر سن کر اُن کے دل اور بھی مضبوط کی ہو گئے۔بجائے اس کے کہ اُن کے ایمان متزلزل ہوتے وہ اور مضبوط ہو گئے۔اسلام پر یہ دن جوانی کے تھے۔ہر چیز ، ہر مصیبت اور ہرا بتلاء جو اُن پر آتا تھا مسلمان اسے ہضم کر جاتے تھے اور کی وہ ان کے لئے ایمان میں ترقی کا موجب ہوتا تھا۔پھر اسلام پر تنزل کا وقت آیا تو ہر مصیبت اور ہر ابتلاء جو اُن پر آیا وہ ان کی کمزوری کا موجب ہوا۔یا تو ہر مصیبت اور ابتلاء ان کے ایمانوں کو بڑھا دیتا تھا اور یا پھر اسلام کے اضمحلال کے زمانہ میں ہر مصیبت جو اسلام پر آئی وہ مسلمانوں کے لئے نقصان کا موجب ہوئی۔جب اسلام ظاہر ہوا عیسائیت زوروں پر تھی۔اسلام کے ظہور کے قریب ترین زمانہ میں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ہی عیسائیوں کو ایک عظیم الشان سلطنت پر فتح حاصل ہوئی تھی یعنی روم نے ایران کو شکست دی تھی۔اس طاقت اور قوت کے زمانہ میں اسلام اٹھا، پھیلا ، اور روم کی سلطنت سے ٹکرایا اور رومیوں کو ایک حد تک پیچھے دھکیل دیا۔لیکن ابھی دشمن کی موجود تھا، ابھی اسے طاقت اور تنظیم حاصل تھی ، ابھی وہ دنیا میں زبردست شہنشاہیت سمجھی جاتی تھی کی کہ مسلمانوں نے آپس میں لڑنا شروع کر دیا۔حضرت عثمان کو شہید کر دیا گیا۔حضرت علی کے کی مقابلہ میں مسلمانوں کا ایک حصہ کھڑا ہو گیا۔روم کے بادشاہ نے چاہا کہ وہ مسلمانوں کے اس تفرقہ سے فائدہ اٹھائے اور ان پر حملہ کر دے تا وہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو دوبارہ حاصل کر سکے۔جب بادشاہ روم کا مسلمانوں پر حملہ کرنے کا ارادہ ہوا تو ایک پادری نے جو مسلمانوں کے علاقہ میں رہ چکا تھا اور ان کی حالت سے واقف تھا بادشاہ کو کہا میں ایک بات کہنی چاہتا ہوں، اس کے بعد آپ جو چاہیں کریں۔میں مسلمانوں کے علاقہ میں رہ چکا ہوں اور ان کے حالات قریب سے دیکھ چکا ہوں۔وہ پادری عیسائی تھا مسلمان نہیں تھا۔وہ بغض و کینہ میں دوسرے عیسائیوں سے کم نہیں تھا۔لیکن سیاسی لحاظ سے وہ سمجھتا تھا کہ مسلمانوں پر حملہ کرنا اچھا نہیں۔اس نے مثال گندی دی لیکن اس کے نقطہ نگاہ سے وہ مثال درست تھی۔اس نے بادشاہ سے کہا آپ وکتے لیجئے اور ان کو کچھ دن بھوکا رکھئے۔پھر ان کے آگے گوشت ڈالئے۔چنانچہ کتے بھو کے رکھے گئے اور پھر ان کے آگے گوشت ڈالا گیا۔کتے کو عادت ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کو کھا تا دیکھ نہیں سکتا۔کتوں نے جب گوشت دیکھا تو ایک دوسرے کو دیکھ کر غرانے لگے اور غرانے کے