خطبات محمود (جلد 33) — Page 34
1952 34 خطبات محمود آریہ ہو گیا وہ بآسانی واپس کیسے آسکتا ہے۔لیکن ہمارے آدمی نئی جگہوں پر جاتے تھے نتیجہ ہوا کہ آریہ لوگ ہمارے پیچھے پیچھے بھاگنے شروع ہوئے۔پہلے جہاں آریہ جاتے تھے مولوی وہاں جاتے تھے لیکن چونکہ آریہ پہلے جاتے تھے اس لئے وہ گاؤں پر قبضہ کر لیتے تھے۔لیکن جب اس سکیم پر عمل کیا گیا تو یہ ہوا کہ جب ہم ایک گاؤں پر قبضہ جما لیتے اور اُس کے رہنے والوں کو اسلام پر پختہ کر لیتے تو پھر آریہ جاتے اور اس طرح وہ اپنی کوششوں میں ناکام رہتے۔غرض اُس کی وقت ان دونوں افسروں نے جو سکیم بتائی۔اُس پر عمل کرنے کا یہ نتیجہ ہوا کہ سارے ہندوستان نے یہ تسلیم کر لیا کہ احمدیت کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔اس وقت بھی ہماری نظارت نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ جہاں مخالف مولوی جاتے ہیں وہاں ہم جاتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ بجائے اس کے کہ مولوی گند پھیلا جائیں تو ہم جائیں ہم پہلے جا کر وعظ کریں اور پھر مخالف مولوی وہاں جائیں۔اس طرح ہم جیتیں گے اور وہ ہاریں کی گے محض پوسٹ آفس بننے سے کام نہیں چل سکتا۔ہمارے سامنے کوئی پلان ہونی چاہیے، کوئی پروگرام ہونا چاہیے پھر اس کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ آئندہ شوریٰ میں یہ سوال رکھا جائے گا وہ اِس پر غور کر کے آئیں۔اس سستی کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کیا جا سکتا۔یا تو کارکنوں پر اخبارات کی میں کھلے طور پر تنقید کی جائے اور یا پھر کمیشن بٹھا کر انہیں سزائیں دی جائیں اور یہ دیکھا جائے کہ کیا تمام ممکن ذرائع انہوں نے استعمال کر لئے ہیں ؟ نہیں تو ان کی موجودہ سستی جماعت سے غداری ہے۔میں ربوہ والوں کو بھی بتا دیتا ہوں کہ ان کے نمائندے بھی اس بات پر غور کر لیں۔اسی طرح دوسری جماعتوں کو بھی یہ ہدایت دیتا ہوں کہ وہ شوریٰ پر جو نما ئندے بھیجیں وہ اس بات کی پر غور کر کے آئیں۔کیونکہ وقت قیمتی ہوتا ہے۔جس نے وقت کو استعمال کیا وہ جیتا اور جس نے وقت ضائع کیا وہ ہارا۔“ الفضل 23 فروری 1952ء)۔1: بیریں: بیری کا درخت ( فیروز اللغات اردو جامع مطبوعہ فیروز سنز لاہور ) :2 مؤتمر : مجلس ، مشورہ ، کانفرنس (فیروز اللغات اردو جامع مطبوعہ فیروز سنز لاہور ) 3 مرن برت :۔وہ فاقہ جسے کرتے کرتے انسان مر جائے۔( فیروز اللغات اردو جامع مطبوعہ فیروز سنز لا ہور )