خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 35

1952 35 6 خطبات محمود تمہارا فرض ہے کہ اپنے اندر بیداری پیدا کرو، تبلیغ کرو اور پیدا جماعت کو وسیع کرتے چلے جاؤ جو شخص خدا تعالیٰ کے گمراہ بندے کو بچائے گا اُس پر وہ اس قدر انعام نازل فرمائے گا کہ انسانی عقل اس کا اندازہ نہیں لگا سکتی ( فرموده 29 فروری 1952ء بمقام بشیر آباد اسٹیٹ سندھ ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ان علاقوں میں قریباً قریباً زمیندار طبقہ ہی آکر بسا ہے۔باقی ملکوں کی آبادی اور اصول پر ہوتی ہے۔یہاں کی آبادی اور اُصول پر ہے۔مثلاً پہلے جب کسی ملک کے لشکر باہر جاتے تھے تو اُن کے ساتھ علاقہ کے بعض دھوبی ، ترکھان ، لوہار اور دوسرے پیشہ ور بھی چل پڑتے تھے تا کہ فوج کی ضرورتوں کو پورا کرتے جائیں۔پھر بعض علاقے زرعی ضرورتوں کے لحاظ سے بھی بڑھتے ہیں۔سارا زور زمینداروں پر پڑ جاتا ہے اور باقی شاخیں نظر انداز ہو جاتی ہیں۔یہ علاقہ بھی زمیندارہ لحاظ سے آباد ہوا ہے۔یہاں اکثر زمیندار آکر آباد ہوئے ہیں۔باقی پیشوں کے لوگ بہت کم آئے ہیں۔ان زمینداروں کی ضرورتوں کو وہ تھوڑے سے لوگ جو ان کے ساتھ آگئے ہیں یا یہاں کے مقامی لوگ پورا کرتے ہیں۔ہر پیشہ ور اپنی ضرورتوں کو سمجھنے کے قابل ہوتا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی معاملہ ڈاکٹری کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو ڈاکٹر ہی اسے زیادہ اچھی کچ