خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 339

1952 339 خطبات محمود کے لئے جاری کیا تھا۔اس پر خدا تعالیٰ نے مجھ پر القاء کیا کہ کیا تبلیغ اسلام صرف 19 سال تک کی ہوگی ؟ بعد میں یہ کام معاف ہو جائے گا ؟ تب میری آنکھیں کھلیں اور میں نے جماعت پر یہ واضح کی کیا کہ یہ کام قیامت تک جاری رہے گا۔اور جس دن بھی ہم نے اس کام کو چھوڑ دیا ہم مرے۔اس کی مثال تو بالکل ایسی ہی ہے جیسے میں ایک دفعہ جمعہ پڑھ کر بیٹھا تھا تو ایک دوست نے کہا ایک پیر صاحب آئے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ سے ملاقات کریں۔میں نے کہا انہیں آگے لے آئیں۔چنانچہ وہ پیر صاحب آئے اور کہا میں یہاں آیا تھا اس لئے میں نے خیال کیا کہ آپ سے ملاقات بھی کرلوں۔وہ سید بھی تھے اور پیر بھی ، انہوں نے کہا مجھے ایک مسئلہ بتا ئیں۔اگر ایک دریا کو عبور کرنے کے لئے کوئی شخص ایک کشتی میں بیٹھے تو کیا جب کشتی دوسرے کنارے تک پہنچ جائے تو وہ کشتی سے اُتر جائے یا کشتی پر ہی بیٹھا رہے؟ میں فوراً سمجھ گیا کہ ان کا مطلب یہ ہے کہ عبادت تو خدا تعالیٰ کے ملنے کے لئے کی جاتی ہے، جب خدا تعالیٰ مل جائے تو عبادت کی کیا تج ضرورت ہے؟ نماز ، روزہ اور دوسری عبادات تو اُن لوگوں کے لئے ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نہیں ملا۔جنہیں خدا تعالیٰ مل گیا ہے انہیں ان عبادات کی کیا ضرورت ہے۔میں نے کہا پیر صاحب ! اگر دریا کا کنارہ ہے تب تو اُتر جانا چاہیے کشتی میں بیٹھ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔لیکن اگر دریا کا کنارہ ہی نہیں تو جہاں آپ اُترے وہیں ڈوبے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ غیر محدود ہے اگر اُس کا ایک کنارہ نظر آتا ہے تو وہاں پہنچنے پر دوسرا کنارہ نظر آ جائے گا۔اور اگر انسان اُس دوسرے کنارے پر پہنچے گا تو اُسے ایک اور کنارہ نظر آ جائے گا۔اگر کوئی انسان ہو تو اُسے بغل گیر ہو کر دوسرا شخص مل سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ تو غیر محدود ہے۔اگر ا سے ایک جگہ چھو لیا ہے تو اُس کا وجود اور بھی ہے اور اگر اُس جگہ چھو لیا تو اور باقی ہے۔اسی طرح تبلیغ بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔خدا تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے تمہارے ماننے والے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رہیں گے 4۔اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمیشہ ایسے آدمی موجود رہیں گے جو حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان نہیں لائیں گے۔اور جب حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لا نا قرآن کریم نے بھی ضروری قرار دیا ت ہے تو جو لوگ مسیح کو نہیں مانیں گے قرآن کریم کو بھی نہیں مانیں گے۔پس لازماً قیامت تک کچھ ایسے لوگ بھی موجود رہیں گے جو اسلام میں داخل نہ ہوں گے۔اور اگر قیامت تک ایسے لوگ