خطبات محمود (جلد 33) — Page 333
1952 333 خطبات محمود پس قحط میں بھی ایسا انسان اپنے لئے خود تکلیف پیدا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر کوئی کچھ تکلیف نہیں آتی۔پھر سالنوں کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔روٹی تھوڑے سے سالن کے ساتھ بھی کھائی جاسکتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام ایک چمچہ چائے کا سالن لے لیتے تھے اور روٹی کھا لیتے تھے۔پس تم یہ چیزیں کم استعمال کرو تو تمہاری تکلیف کم ہو جائے گی۔لیکن اگر تم قحط میں بھی ان چیزوں کو کم نہیں کرتے تو تم یہ امید کیسے کرتے ہو کہ جو چیز نہیں وہ تمہیں مل جائے۔جو چیز موجود نہیں وہ نہیں مل سکتی۔ہم نے تحریک جدید کے اجراء کے ساتھ ساتھ کفایت کا سلسلہ اس لئے شروع کیا تھا کہ انسان پر قحط کا وقت بھی آتا ہے۔جب ایسا وقت آ جائے تو وہ اشاعت اسلام میں کی سستی نہ کرے۔وہ برابر چندے دے تا کام رُکے نہیں۔جب اسے سادگی کی عادت ہوگی تو لا زمانی خرچ بھی کم ہوگا اور جب خرچ کم ہوگا تو وہ قحط میں بھی چندے ادا کر سکے گا۔لیکن جو شخص رفاہیت اور کھانے پینے میں تکلفات کا عادی ہے وہ شخص چندوں میں بھی سست ہو جائے گا۔بے شک مومن تو ہر حالت میں مالی قربانی کرے گا لیکن جو کمزور ایمان والا ہے وہ سہولت کے دنوں میں تو چندہ دے گا لیکن جب قحط کی حالت ہوگی تو وہ چندوں میں سستی کرے گا اور اس طرح اپنے ثواب کو کم کر لے گا۔میں نے تحریک جدید کے اجراء کے وقت خاص طور پر عورتوں کو سادگی کی طرف توجہ دلائی تھی۔لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے پوری طرح تعاون نہیں کیا اور مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ لجنہ اماءاللہ نے اپنے فرضِ منصبی کو پورا نہیں کیا۔وہ اس بات پر خوش ہیں کہ انہوں نے مکان اور دفتر بنا لیا ہے۔ممکن ہے کہ مجھے لجنہ اماءاللہ کو تو ڑ کر عورتوں کی تنظیم کسی اور رنگ میں کرنی پڑے کیونکہ ان میں کام کی صحیح روح نہیں پائی جاتی۔باہر سے مجھے چٹھیاں آتی ہیں کہ لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی طرف سے کوئی تھی تحریک نہیں آئی۔چٹھیوں کا جواب نہیں دیا جاتا۔چنانچہ امریکہ سے مجھے خط آیا ہے کہ سال بھر کی میں مرکز کی طرف سے کوئی تحریک نہیں آتی اور ہمیں پتا نہیں کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا خدا تعالیٰ اور دین سے دور جا چکی ہے۔اور اب اس پر اتنے مصائب اور آفتیں آئی ہیں کہ اس میں تڑپ پیدا ہوگئی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی آواز آنی کی چاہیے۔خدا تعالیٰ کی آواز کے بغیر اُن کا گزارہ نہیں۔بیرونی ملکوں سے بھی اب اس قسم کے خطوط کی آتے ہیں کہ دنیوی ذرائع سے اب ہم اتنے تنگ آگئے ہیں کہ اب خدا تعالیٰ ہی مدد کرے تو جی