خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 325

1952 325 خطبات محمود سے قبل خطبہ بھی ہوتا ہے اور اُس وقت نماز عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ ظاہری چیز کے تغیر کے ساتھ باطن میں بھی تغیر ہو جاتا ہے لیکن شریعت میں تغیر نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حکومت نے کسی جغرافیا کی وجہ سے یا کسی اور مصلحت کی بناء پر گھڑیوں کو ایک گھنٹہ پیچھے کر دیا ہے لیکن نماز تو اُسی وقت پڑھی جائے گی جس وقت وہ پہلے پڑھی جاتی تھی۔اس میں تو کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔اگر اب بھی جمعہ پہلے کی طرح ایک بجے ہی ہوگا تو چونکہ نماز سے قبل خطبہ بھی ہوتا ہے اور پھر نماز بھی ادا کرنا ہوتی ہے اس لئے دو اڑھائی بجے تک وقت چلا جائے گا۔گویا نماز پرانے وقت کے مطابق تین ساڑھے تین بجے ختم ہو گی۔سورج تو اُسی وقت چڑھتا ہے جس وقت وہ پہلے چڑھا کرتا تھا تو پھر وجہ کیا ہے کہ ہم غافل ہو گئے ہیں۔اگر سورج بھی ایک گھنٹہ پیچھے کی چڑھتا تو پھر تو تم کہہ سکتے تھے کہ پہلے سورج ایک گھنٹہ پہلے چڑھتا تھا اب وہ ایک گھنٹہ بعد چڑھتا ہے اس لئے آج دیر سے آئے ہیں۔لیکن سورج تو اُسی وقت چڑھتا ہے اور آج بھی اُسی وقت چڑھا ہے اور بارہ بجے تک تمہیں اتنا وقت مل گیا تھا جتنا وقت تمہیں سٹینڈرڈ ٹائم بدلنے سے قبل ایک بجے تک مل جایا کرتا تھا۔کیونکہ آج کل کے بارہ بجے پرانے سٹینڈرڈ ٹائم کے لحاظ سے ایک بجے کا وقت ہوتا ہے۔اس کے بعد میں آج کا خطبہ شروع کرتا ہوں جو تحریک جدید کے انیسویں سال کے متعلق ہے۔تحریک جدید 1934ء میں شروع ہوئی۔1934 ء کے نومبر میں اس کا اعلان ہوا اور اب 1952ء کا نومبر ہے۔گویا وعدوں کے لحاظ سے 18 سال ختم ہو گئے ہیں اور انیسواں سال شروع ہو گیا ہے اور ادائیگی کے لحاظ سے اگلے سال نومبر تک انیسواں سال ختم ہو جائے گا۔تحریک جدید کی بنیاد در حقیقت انہی اصول پر ہے جن پر اسلام کی بنیا د رکھی گئی ہے۔اسلام کی بنیاد بھی اس بات پر رکھی گئی تھی کہ خدا تعالیٰ کے کلام کی تشہیر اور ترویج کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو پیغام دیا ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اس پیغام کو ساری دنیا تک پہنچا ئیں۔اگر ہم اس پیغام کو چ ساری دنیا تک پہنچاتے ہیں تو دنیا اس پیغام سے غافل نہیں ہوگی اور لوگوں کو ایمان لانے کا موقع مل جائے گا۔اگر کسی شخص کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچ جاتا ہے اور وہ ایمان نہیں لاتا تو ہماری ذمہ داری کی ختم ہو جاتی ہے اور اس کی ذمہ داری شروع ہو جاتی ہے۔اور اگر اُس تک خدا تعالیٰ کا پیغام نہیں پہنچتا تو ہماری ذمہ داری رہ جاتی ہے اور اُس کی ذمہ داری شروع نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ ظالم نہیں۔۔وہ