خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 321 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 321

1952 321 خطبات محمود ماحول پر غور کریں اور دیکھیں کہ ملک اور قوم کی ترقی کے لئے کون سے ذرائع ہیں۔اُن ذرائع کو کی استعمال کریں تا ملک ترقی کرے۔ملک میں جو صنعتیں اور تجارتیں پہلے نہیں ان کی طرف توجہ دی جائے۔اگر نو جوان اس طرف توجہ کریں تو بے شک ابتدا میں وہ تکلیف بھی اٹھا ئیں گے لیکن آخر میں ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے جو اُن کے خاندان اور ملک کے لئے مفید ہوں گے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے انگریزوں اور امریکنوں میں ہزاروں ایسے آدمی ہوں گے جنہوں نے اپنی جائیدادوں کو تباہ کیا تا ملک کے لئے وہ کوئی مفید چیز ایجاد کر یں۔لیکن ہماری جماعت میں ایسا کوئی آدمی نہیں جس نے کسی ایسی ایجاد کی طرف توجہ کی ہو۔اس کے مقابلہ میں بعض ان پڑھ آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جنہوں نے اس بات کی طرف توجہ کی اور وہ کئی ایجادات لانے میں کامیاب ہو گئے۔ایک صاحب محمد حسین تھے جو دہلی کے رہنے والے تھے۔پہلے وہ کانگرسی تھے اور گاندھی جی کے ساتھ ان کے تعلقات تھے۔انہوں نے 24 کے قریب ایجادیں کی تھیں لیکن بدقسمتی کی وجہ سے ملک کے لوگوں کی اس طرف توجہ نہیں تھی اس لئے وہ ترقی کی نہ کر سکے۔وہ ایجادیں کرتے تھے اور باوجو د غریب ہونے کے ایجادیں کرتے تھے لیکن وہ جو چی ایجاد کر تے تھے تاجر اُس طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔انہوں نے جو ایجادات کیں اُن میں سے کی ایک ایجاد چرخہ کے ساتھ تعلق رکھتی تھی اور ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ہماری جماعت مدد کرے تو وہ عظیم الشان کام کر سکتے ہیں۔وہ گاندھی جی اور دوسرے کانگرسی لیڈروں کے خطوط بھی دکھاتے تھے جو اُن ایجادات کی تعریف میں انہوں نے لکھے تھے۔وہ میرے پاس بھی آئے اور درخواست کی کہ میں جماعت میں تحریک کروں کہ اُن کی مدد کی جائے۔لیکن میں نے کہا ہمارے نوجوان سخت نا واقف ہیں۔انہوں نے صنعتی تجربات حاصل نہیں کئے کہ وہ آپ کی مدد کریں۔چنا نچہ وہ مایوس ہو کر چلے گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کے ابتدئی زمانہ کی بات ہے۔میں چھ سات کی سال کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ سیر کے لئے نکلے۔آپ مسجد مبارک کے سامنے جو چوک ہے اس میں پہنچے تو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دوست حضور کی تصویر لینے کی خاطر یہاں آئے ہیں۔یہ 1894ء 1895ء کی بات ہے۔اُس زمانہ میں ابھی کیمرہ کا زیادہ رواج نہیں تھا۔اس شخص نے ایک