خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 322

1952 322 خطبات محمود سٹینڈ کھڑا کیا اور اُس کے اوپر گتے کی ایک چیز رکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فوٹو کی لی۔جب آپ سیر کے لئے آگے تشریف لے گئے تو اُس شخص کے متعلق بات شروع ہوئی اور کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا گیا کہ وہ شخص مڈل تک تعلیم رکھتا ہے اور اس نے بڑی کی محنت کے ساتھ کیمرہ کی ایجاد کی ہے اور یہ کیمرہ جس سے آپ کی فوٹو لی گئی ہے اُس کا اپنا ایجاد کردہ کی ہے۔اُس شخص نے ایجادات کے شوق میں روس تک کا سفر بھی کیا ہے اور متعدد ایجادیں کی ہیں۔وہ دوست جلد ہی فوت ہو گئے کیونکہ اس کے بعد وہ دکھائی نہیں دیئے۔پس محنت اور کوشش کے ساتھ ہی انسان انسان بنتا ہے۔یا تو تم موجودہ حالتوں پر قائم رہ کر اپنی غلامی کے دور کو اور لمبا کرو گے اور یا غلامی کے طوق کو اُتار کر سرداری کے تخت کو جیتو گے۔یہ دونوں حالتیں تمہارے سامنے ہیں۔یا تو تم کوشش نہیں کرو گے اور یہ خیال کرو گے کہ موجودہ کی حالت کو بدلنے کی ضرورت نہیں۔اس حالت میں بھی روٹی مل جائے گی لیکن اس طرح تم غلامی کی تی حالت میں رہو گے۔پاکستان کے آزاد ہو جانے سے تم آزاد نہیں ہو جاتے کیونکہ جو ملک صنعتی طور پر دست نگر ہو وہ پورا آزاد نہیں کہلا سکتا۔اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لئے ، اپنے ملک کو آزاد بنانے کے لئے قربانی کی ضرورت ہے۔اگر صنعتی اشیاء کے لئے ہم دوسرے ممالک کے محتاج رہے تو ہمیشہ یہ شکوہ رہے گا کہ فلاں ملک ہماری روئی نہیں لیتا ، ہمارا زمیندار مر رہا ہے وہ ہمیں فوجی سامان نہیں دیتا جس کی وجہ سے ہماری فوج غیر مسلح ہے۔یہ آزادی محدود آزادی ہے۔آزادی اس چیز کا نام ہے کہ ہمارا ملک دوسرے ممالک کو چیلنج کر سکے کہ تم ہمارا مقاطعہ کرتے ہو تو کرو مجھے کوئی خطرہ نہیں۔تو ہیں یہاں بن رہی ہوں، ہوائی جہاز یہاں بن رہے ہوں ، ریلیوں کے انجن یہاں بن رہے ہوں، ٹریکٹر، لاریاں ، موٹر اور دوسری چیزیں یہاں تیار کی جا رہی ہوں۔یہ خیال کر لینا کہ روٹی تو ہر حالت میں ملتی ہے زیادہ کوشش کی کیا ضرورت ہے ہماری غلامی کو لمبائی کرتا ہے۔لیکن اگر ہم روٹی کو لات ماریں اور تجارتوں ، ایجادوں ، زراعتوں ، اور صنعتوں میں لگ جائیں تو شاید کچھ عرصہ تک ہمیں تکلیف بھی ہو یا ہماری نسل بھی کچھ عرصہ تک تکلیف اٹھائے لیکن ایک وقت ایسا آئے گا جب ہم اپنے خاندان اور ملک کے لئے ایک مفید وجود بن سکیں گے اور ہماری ساری تکالیف رفع ہو جائیں گی۔پس میں اپنے نو جوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تعلیم محض اس لئے حاصل نہ کریں کہ اس کی