خطبات محمود (جلد 33) — Page 316
1952 316 خطبات محمود دے کر دین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور یا مرتد ہو جانا۔دشمن اسے اس سے ورے نہیں چھوڑتا۔دشمن اس دنیا میں اُسے ان دو چیزوں میں سے ایک چیز ضرور دے گا یا تو وہ اُسے مرتد کر دے گا جی اور یا اُسے موت دے گا۔اور جب ارتداد اور موت ایک طرف ہوں تو مال اور جان کی قیمت ہی کیا رہ جاتی ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ چلو جہاں دین سلامت رہتا ہے وہیں چلو میں اپنی جان کی قربانی دے دیتا ہوں۔د نیوی جنگوں کے موقع پر لاکھوں لاکھ لوگ اپنی جانیں پیش کر دیتے ہیں۔پچھلی جنگِ عظیم میں 60 لاکھ انگریز جنگ میں شامل ہوئے اور 70 ، 80 لاکھ کے قریب جرمن تھے جنہوں نے جنگ کے لئے اپنی زندگیاں پیش کیں۔ان کی جانیں بھی ہماری جانوں کی طرح تھیں۔لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ہمارا ملک اور ہماری قوم خطرہ میں ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ہم اپنی زندگیاں ملک اور قوم کی خاطر پیش کر دیں تو انہوں نے اپنی جانیں پیش کر دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُس میں ایک حد تک کنسکر پشن (CONSCRIPTION) بھی تھی یعنی کی جبری بھرتی۔لیکن اگر 60 لاکھ انگریزوں میں سے 40 لاکھ ایسے نکل آئیں جو جبر ابھرتی کر لئے ހނ گئے تھے تب بھی 20 لاکھ نوجوان ایسے تھے جنہوں نے ملک وقوم کی خاطر اپنی جانیں خوشی۔قربان کیں اور یہ ایک بڑی تعداد ہے۔اگر ایک کروڑ امریکنوں میں سے جنہوں نے جنگ میں شمولیت کی 2/3 ایسے لوگ نکال دیئے جائیں جو جبراً بھرتی کر لئے گئے تو 33 لاکھ ایسے آدمی رہا جی جاتے ہیں جنہوں نے بطور والنٹیئر اپنی جانیں پیش کیں۔اسی طرح اگر 70 لاکھ جرمنوں میں سے 40 لاکھ ایسے لوگ ہوں جنہیں حکومت نے جبراً بھرتی کر لیا ہوتو پھر بھی ملک کی خاطر قربانی دینے والے 30 لاکھ باقی رہ جاتے ہیں۔بہر حال جب خطرہ کا وقت ہوتا ہے تو ملک اور قوم کی خاطر جان دینے والے بڑی تعداد میں آگے آجاتے ہیں۔اب گجا یہ لوگ کہ وہ اپنے ملک اور قوم کی خاطر قربانیاں دیتے ہیں اور جانی ہم جو ایک متمدن ملک میں رہتے ہیں۔یہاں کبھی کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ چند احراریوں نے حملہ کر دیا ،لٹھ چلا دی یا مکان کوٹ لیا لیکن ہر وقت ایسا نہیں ہوتا۔آخر لاکھوں کی جماعت میں کتنے ایسے واقعات ہوئے ہیں۔قریباً ایک درجن ایسے واقعات ہوں گے کہ احمدیوں کے مکانوں اور دُکانوں کو لوٹ لیا گیا ہو، انہیں گھروں سے نکال دیا گیا ہو۔اور ایسی حرکات چور چکار کرتے ہی