خطبات محمود (جلد 33) — Page 299
1952 299 خطبات محمود ثبات حاصل ہو گیا۔غرض سچائی کی ہمیشہ مخالفت ہوتی ہے اور ہوتی رہے گی۔سچائی کے معنی ہی یہ ہیں کہ لوگوں کے خیالات کے خلاف بات پیش کی جائے اور جب کسی زمانہ یا ملک یا قوم کے خیالات کے خلاف بات پیش کی جائے گی تو لازماً وہ بات اُنہیں بُری لگے گی۔ہم امریکہ میں جاتے ہیں تو وہاں جا کر بھی یہی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام جن کو تم اپنا خدا سمجھتے ہو وفات پاچکے ہیں۔وہ ایک انسان تھے اور سرینگر میں آپ کی قبر ہے۔ہم وہاں جا کر بھی یہی کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی نبوت کا زمانہ ختم ہو چکا ہے، اب عیسائیوں کو مسلمان ہو جانا چاہیے۔ہم انگلستان جاتے ہیں تو وہاں بھی یہی کہتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں اُن کا مخالفت کرنا ایک لازمی امر ہے۔میں جب انگلستان گیا تو ہماری طرف سے اسلام کی تائید میں کچھ لٹریچر شائع کیا گیا اور جماعت کے دوستوں نے ایک جگہ جہاں سینٹ پیٹر کا گر جا تھا اُسے تقسیم کیا۔اس گر جا میں لارڈ اور نواب ہی آتے ہیں۔جب لٹریچر تقسیم کیا گیا تو بعض لارڈ اور نواب ایسے تھے جنہوں نے آستینیں چڑھا لیں اور لڑنے کے لئے تیار ہو گئے حالانکہ عیسائی خود ساری دنیا میں عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔اگر ہم نے اُن کے گر جاکے سامنے اپنا لٹریچر تقسیم کر دیا تو کیا اندھیر ہو گیا۔لیکن وہ لوگ جوش میں آگئے اور اس بات کو برداشت نہ کر سکے کہ ہم اُن کے ملک میں اسلام کی تبلیغ کریں۔دراصل جہاں تک کمزور انسانی فطرت کا تعلق ہے یہ لازمی بات ہے کہ ہماری ہر جگہ مخالفت ہوگی اور جہاں تک عادل حکومت کا سوال ہے ہو سکتا ہے کہ بعض جگہ ایسے افسر ہوں جو کہیں کہ ہم تم سے بے انصافی نہیں ہونے دیں گے۔اور ایسے مقامات جہاں ہم قلیل تعداد میں ہیں وہاں کی لوگ ہمیں اپنے خیال میں ایک مچھر یا مکھی کی مانند سمجھتے ہیں۔جس طرح ایک مچھر یا مکھی مکان منجی کے اندر آتی ہے تو کوئی فلٹ (FLIT) استعمال نہیں کرتا لیکن جب وہی مچھر اور مکھیاں بڑی تھی تعداد میں جمع ہو جاتی ہیں تو لوگ اُن کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔اسی طرح جہاں سچائی کمزور ہوتی تھی ہے وہاں لوگ سچ کے حامیوں کو مکھیاں تصور کرتے ہیں اور اُن کی مخالفت نہیں کرتے لیکن جہاں تھی ہماری جماعت بڑھ جائے گی وہاں لازماً ہماری مخالفت ہو گی۔اگر امریکہ میں ہماری جماعت کے خلاف اس وقت کوئی شورش نہیں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ ہمیں برداشت کر رہے ہیں بلکہ وہ ہمارے خلاف اس لئے شورش برپا نہیں کرتے کہ وہ سمجھتے ہیں بوجہ قلیل التعداد ہونے کے ہم ان کی