خطبات محمود (جلد 33) — Page 295
1952 295 خطبات محمود امریکہ کو اُڑا دوں تو تمہیں کتنی ہنسی آئے گی۔اسی طرح جب انسان کہتا ہے کہ میں مکہ مار کر تمہارے دانت نکال دوں گا تو فرشتوں کے نزدیک اس کی حیثیت چیونٹی کے ایک پنجے کی سی بلکہ اس سے بھی کم ہوتی ہے۔گویا عا کم مخلوق کے مقابلہ میں انسان کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔صرف بہ ہے کہ اُسے جوش دلا دو تو اس کا دماغ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔اس جنون کی حالت کو الگ کر دو تو وہ ہے ہی کیا چیز۔جو بڑے لوگ ہیں اُن کو نکال دو تو باقی دنیا میں ہے ہی کیا۔ایک وقت میں ایک دو ہزار آدمی ایسے ہوتے ہیں جو کچھ کر رہے ہوتے ہیں۔باقی لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جیسے گاڑی میں کیل لگا ہوا ہو یا تیل کا قطرہ جو اس کی چولوں میں دیا ہوا ہو۔اس دنیا کو چلانے والے ایک یا دو ہزار آدمی ہوتے ہیں۔یہ ایک دو ہزار آدمی بھی باقی نظام عالم کے مقابلہ میں کیا حیثیت کی رکھتا ہے۔وہی سٹالن جو کہتا ہے میں یوں کر دوں گا تو ساری دنیا میں شور مچ جاتا ہے وہی ٹرومین جو کہتا ہے میں روس کو یوں کر دوں گا اور سارے روس میں کھلبلی مچ جاتی ہے ان کے جسم میں ایک بار یک خورد بینی کیڑا دق ، سل یا ہیضہ کا چلا جاتا ہے تو وہ تڑپنے لگ جاتے ہیں اور ایک معمولی ڈاکٹر کے سامنے چلاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ! خدا کے لئے میرا علاج کریں، مجھے سخت تکلیف کی ہے۔یا تو وہ اپنے سامنے کسی دوسرے کو سمجھتے ہی کچھ نہیں اور یا وہ دو چار سو روپیہ پانے والے ایک ڈاکٹر کے سامنے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔وہ ڈاکٹر جس کے دل میں ان کی تندرستی کے دنوں میں اگر انہیں ملنے کی خواہش ہو تو وہ انہیں مل بھی نہ سکے وہ بیماری میں اس کے آگے سر بسجو د ہوتے ہیں۔پس انسان کو سوچنا چاہیے کہ آخر اُس کی پیدائش کی کیا غرض ہے؟ اس کی پیدائش کی کوئی مج غرض تو ہوگی۔قرآن کریم کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بے فائدہ اور عبث پیدا نہیں کی۔میں یہ تو مانتا ہوں کہ ہر کام ہر انسان نہیں کر سکتا۔مگر تم مجھے یہ یقین دلانا چاہتے ہو کہ انسان کوئی کام بھی نہیں کی کر سکتا۔جس طرح یہ غلط ہے کہ ہر کام ہر انسان کر سکتا ہے اُسی طرح یہ بھی غلط ہے کہ کوئی انسان کی کوئی کام بھی نہیں کر سکتا۔کم از کم وہ کچھوے اور جوں کی طرح ہی چلے گا۔کچھ نہ کچھ حرکت تو ہر انسان کر سکتا ہے۔ایسا کوئی انسان نہیں جو کوئی حرکت بھی نہیں کر سکتا۔اگر تم کچھ کر رہے ہو اور پھر تم سوچتے ہو کہ تمہاری پیدائش کی کیا غرض ہے۔تو تمہاری رفتار تیز ہو جائے گی اور ممکن ہے کہ تم میدان کے شہسوار بن جاؤ۔لیکن اگر تم اپنی پیدائش پر غور نہیں کرتے ، اگر تمہیں پتا ہی نہیں کہ جی