خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 280

1952 280 خطبات محمود جس قوم میں یہ بات پیدا ہو جاتی ہے وہ کبھی نہیں مرتی۔اور جس قوم کے اندر یہ بات پیدا نہ ہو اُس کو کوئی زندہ نہیں رکھ سکتا۔خواہ کتنا ہی زور لگا لو وہ قوم ضرور مرے گی۔لیکن جس قوم میں یہ کی خوبی موجود ہو کہ اُس کے نوجوان ہمتوں والے ہوں ، بلند ارادوں والے ہوں، صحیح کام کرنے والے ہوں ، اچھی نیتیں رکھنے والے ہوں تو وہ مرتی نہیں بلکہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور خواہ کوئی بھی اسے مٹانا چاہے مٹا نہیں سکتا۔ایک دفعہ ایک عباسی بادشاہ نے اپنے دولڑ کے ایک بڑے امام کے پاس پڑھنے کے لئے بٹھائے۔اُس امام کا اتنا رعب تھا اور اس نے اپنی قابلیت کا اتنا سکہ بٹھایا ہوا تھا کہ ایک دن جب بادشاہ اُس کی ملاقات کے لئے گیا اور امام اُس کے استقبال کے لئے اٹھا تو دونوں شہزادے دوڑے کہ وہ اپنے امام کی جوتی اُس کے آگے رکھیں۔ایک کی خواہش تھی کہ میں جوتی رکھوں اور کی دوسرے کی خواہش تھی کہ میں جوتی رکھوں۔بادشاہ نے جب یہ نظارہ دیکھا تو کہا کہ تیرے جیسا آدمی کبھی مر نہیں سکتا۔یعنی جس نے اپنی روحانی اور علمی اولاد کے دل میں اتنا جوشِ اخلاص پیدا کر دیا ہے اور اتنی علم کی قدر پیدا کر دی ہے اس نے کیا مرنا ہے۔وہ مرے گا تو اور لوگ اُس کی کی جگہ لے لیں گے۔غرض بے ساختہ بادشاہ کے منہ سے یہ فقرہ نکل گیا کہ ایسا آدمی مر نہیں سکتا۔حقیقت یہ ہے کہ انسان تو مرتے چلے آئے ہیں اور مرتے چلے جائیں گے۔قوموں کے لئے دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ ان کے اندر زندگی کی روح پائی جاتی ہے یا نہیں۔اگر وہ کوئی کی مفید کام کرنا چاہتی ہیں تو ان کا فرض ہوتا ہے کہ وہ نیکیوں کا ایک تسلسل قائم کر دیں۔آدم کے کی متعلق خدا تعالیٰ نے یہی بات قرآن کریم میں بیان فرمائی ہے کہ اس نے ایک تسلسل قائم کر دیا۔فرماتا ہے خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ 1 آدم کا کیا کمال تھا ؟ آدم کا یہی کمال تھا کہ وہ صرف ایک مرد اور ایک عورت تھے۔مگر پھر بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَا آگے نسل در نسل پیدا ہوئی۔اور مرد اور عورت اتنی کثرت سے ہوئے کہ یا تو کوئی زمانہ اس دنیا پر ایسا گزرا ہے جب فلسفیوں اور سائنسدانوں کا سب سے بڑا قابلِ غور مسئلہ یہ ہوا کرتا تھا کہ اس دنیا کو آباد کس طرح کیا جائے۔اور یا اب وہی دنیا ہے مگر اب فلسفیوں اور کی سائنس دانوں کے نزدیک سب سے بڑا سوال جو حل کرنے کے قابل ہے یہ ہے کہ اس دنیا کی کی آبادی کو روٹی کہاں سے کھلائی جائے۔