خطبات محمود (جلد 33) — Page 279
1952 279 خطبات محمود حالت پیدا ہو گئی کہ اعصاب شل ہو جاتے تھے ، اس کا ہلانا مشکل ہو جاتا تھا، انگلیاں ٹیڑھی ہو جاتی تھیں اور بازو میں بے حسی پیدا ہو جاتی تھی۔گویا جوا بتدائی حالتیں بعض قسم کے فالجوں میں پائی جاتی ہیں ویسی ہی حالت پیدا ہو گئی۔فالج دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہوتے ہیں جو یکدم گرتے ہیں اور ایک سیکنڈ میں انسان کو بے کار کر دیتے ہیں اور بعض فالج ایسے ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ حملہ کرتے ہوئے انسانی جسم میں قائم ہوتے ہیں۔ان کا نام ہی طب میں آہستگی سے بڑھنے والے فالج رکھا گیا ہے۔اس کی وجہ سے بعض دوستوں میں جنہوں نے طب نہیں پڑھی اور جوصرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ فالج میں انسانی جسم کا ایک حصہ یا دھڑ مارا جاتا ہے بے چینی پیدا ہوئی اور انہوں نے فکر اور تشویش کا اظہار کیا۔اس مرض سے بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت کچھ افاقہ ہے۔لیکن ابھی وہ ہاتھ مجھے محسوس ہوتا ہے۔تندرست حصہ کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ کچھ حصہ انسان کو محسوس نہیں ہوتا۔مثلاً ہر ایک کا ناک ہے مگر کسی کو محسوس نہیں ہوتا کہ اُن کے منہ پر ناک ہے۔لیکن جب اُسے نزلہ ہوتا ہے تب اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کے منہ پر ناک بھی ہے۔آنکھ ہر انسان کی ہے لیکن کسی کو محسوس نہیں ہوتی کہ اُس کی دو آنکھیں ہیں۔لیکن جب اس کی آنکھیں دُکھنے آتی ہیں تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ میری آنکھیں بھی ہیں۔اسی طرح ہر ایک کا سہ ہے۔مگر کسی کو محسوس نہیں ہوتا کہ اس کا سر ہے۔لیکن جب اسے سر درد ہوتا ہے تب اسے معلوم ہوتا ہے کہ میرا ایک سر بھی ہے۔غرض طبیب بیماری کی بڑی علامت یہی بتاتے ہیں کہ بیمار عضو کا انفرادی احساس ہونے لگتا ہے۔اسی طرح گو اب مرض میں افاقہ ہے مگر دائیں بازو کا مجھے الگ احساس نہیں ہو رہا۔لیکن بایاں بازو الگ محسوس ہو رہا ہے اور وہ ہاتھ تھکا ہوا اور بوجھل معلوم ہوتا ہے۔بہر حال جو شدت کی تکلیف شروع ہوئی تھی وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے رُک گئی ہے۔اور جیسا کہ میں نے ایک پہلے خطبہ میں بھی بتایا تھا حقیقت تو یہ ہے کہ عمروں کے ضعف کے ساتھ ساتھ بیماریاں بھی لگ جاتی ہیں۔اور جہاں دو باتیں جمع ہو جا ئیں یعنی انسان کی عمر بھی انحطاط کی طرف جارہی ہو اور پھر دشمن سے مقابلے بھی بڑھ جائیں وہاں دماغی کوفت اور جسمانی کوفت مل کر انسان کے لئے زیادہ مشکلات پیدا کر دیتی ہیں۔بہر حال ہر ایک انسان نے جو پیدا ہوا مرنا ہے۔اور زندہ قوموں کی یہ علامت ہوا کرتی۔کہ ان کے نوجوان اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اپنے بڑوں کے قائم مقام بن جائیں۔