خطبات محمود (جلد 33) — Page 233
1952 233 خطبات محمود آپ کو ممتاز کرنے کے لئے ہم نے اپنا نام احمدی رکھا ہوا ہے۔اور کیا یہ عجیب بات نہیں ہوگی کہ مج کوئی شخص اُس نام کو تو اہمیت نہ دے جو خدا تعالیٰ نے رکھا ہے اور اس نام کو اہمیت دے جو دوسرے لوگوں سے امتیاز رکھنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ہمارا نام خدا تعالیٰ نے مسلمان رکھا ہے۔احمدی نام تو سینس ( Census) میں اپنے آپ کو الگ طور پر دکھانے کے لئے رکھا گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔ایک محمد جو جلالی نام تھا اور ایک احمد جو جمالی نام تھا۔یہ زمانہ آپ کی صفتِ جمالی کے ظہور کا تھا اور چونکہ ہم بھی جمالی تعلیم دیتے ہیں اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتِ احمد سے نسبت رکھتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کا نام احمدی رکھ دیا ہے۔پس احمدی نام ضرورت کی وجہ سے رکھا گیا ہے کسی الہام کی بناء پر نہیں رکھا گیا۔اور اس من سے زیادہ حماقت اور کیا ہوگی کہ جانیں ضائع ہوں ، نوکریاں جائیں لڑکوں کی تعلیم بند ہو جائے لیکن ہم اُس نام کو محکمانہ طور پر استعمال کرنے پر اصرار کریں جو ضرورت کی بناء پر دوسرے فرقوں سے امتیاز کے لئے رکھا گیا تھا۔پس جس مجلس میں اس نام پر پابندی لگائی جائے گی ہم اُس مجلس میں یہ نام چھوڑ دیں گے۔اگر عدالت میں اس نام پر پابندی لگائی گئی تو ہم عدالت میں کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں۔اگر عدالت سے باہر کوئی پوچھے گا تو ہم کہیں گے کہ ہم احمدی مسلمان ہیں۔جس سے قانون رو کے گا ہم رُک جائیں گے۔فرض کرو اگر حکومتِ پاکستان یہ قانون بنا دے کہ احمدی مسلمان نہیں تو ہم حکومت کے جس دفتر میں جائیں گے اپنے آپ کو مسلمان کہیں گے۔آخر وہ یہی قانون بنائیں گے کہ وہ مسلمان جو کسی وقت اپنے آپ کو احمدی مسلمان کہتے تھے اب مسلمان نہیں۔مگر یہ کیسی جنسی والی بات ہوگی کہ حکومت پاکستان ایسے قواعد بنا رہی ہے کہ وہ ای مسلمان جو کسی وقت احمدی کہلاتے تھے اب مسلمان نہیں رہے۔پس خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ حربہ دیا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔باقی روحانیت میں کوئی اونچا ہوتا ہے اور کوئی نیچا۔مثلاً آم ہے۔سڑا ہوا بھی آم ہوتا ہے اچھا آم بھی آم ہوتا ہے۔ایک اچار والا آم ہوتا ہے دوسرا کھانے والا آم ہوتا ہے۔ایک کھٹا آم ہوتا ہے تو ایک میٹھا آم ہوتا ہے۔چاہے تم اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دو آم آم ہی ہے۔پس نہ ہم دوسروں کو اسلام کے نام سے محروم کر سکتے ہیں اور نہ وہ ہمیں محروم کر سکتے ہیں۔۔