خطبات محمود (جلد 33) — Page 232
1952 232 خطبات محمود قابل تسلیم نہیں۔اُس کے دل میں یہ خیال ہے کہ احمدی کبھی نہ کبھی بغاوت کریں گے۔مولویوں نے دوسرے مسلمانوں کے دلوں میں یہ ڈال دیا ہے اور ہمیں اُنہیں یہ یقین دلانا مجی ضروری ہے کہ مولویوں کا یہ پروپیگنڈ اغلط ہے۔اگر ہم اس فرضی سوال کا جواب نہ دیتے تو ان کا کی شبہ قائم رہتا اور اس کی حقیقت نہ کھلتی۔بے شک یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم فرضی سوالوں سے بچتے رہیں۔لیکن ہمارا یہ فرض بھی ہے کہ اگر ان فرضی سوالوں کے جواب نہ دینے سے دھوکا لگتا ہو تو ہم عام طریقہ چھوڑ کر اُن کے جواب دیں۔سوال یہ تھا کہ اگر حکومت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے دے تو آپ کیا کریں گے؟ اس کا ایک ہی جواب ہو سکتا تھا۔خواہ وہ جواب کسی احمدی کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے کہ ہم احمدی نام اُڑا دیں گے۔خدا تعالیٰ نے ہمارا نام احمدی نہیں رکھا۔احمدی نام سینس (Census) کے لئے رکھا گیا تھا۔اور اسلام خدا تعالیٰ کا رکھا ہوا نام ہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں کہا ہے کہ ہم نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔اب یہ سیدھی بات ہے کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز کے لئے قربان کیا جا سکتا ہے۔خدا تعالیٰ کے رکھے ہوئے نام پر جب کوئی مجبوری پیش آئے تو آدمیوں کے رکھے ہوئے نام کو قربان کرنا ہوگا۔اگر کوئی حکومت یہ فیصلہ کر دے کہ احمدی، مسلمانوں کے حقوق سے محروم ہیں تو وہ ہمارے ناموں سے تو فیصلہ نہیں کر سکتی۔نام تو ہم سب کے ایک سے ہیں۔وہ سوال کرے گی کہ تم کون ہو؟ ہم مسلمان ہیں اور ہمارے نوجوان کی کہیں گے کہ ہم مسلمان ہیں۔وہ زیادہ سے زیادہ یہ سوال کریں گے کہ کون سے مسلمان ؟ ہم کہیں کی گے وہی مسلمان جو قرآن میں مذکور ہیں۔وہ اور تشریح کروائیں گے کہ کون سے فرقے سے متعلق مجی ہیں کہ قرآن میں جو فرقے لکھے ہوں تو وہ بیان کر دیں۔میں بتا سکوں گا مجھے تو قرآن میں مسلمان ہی کا لفظ نظر آیا ہے۔غرض اگر گورنمنٹ قانونا احمدی لفظ پر پابندی لگا دے گی تو ہمارے لوگ اپنے آپ کو احمدی نہیں کہیں گے بلکہ مسلمان کہیں گے۔پہلے بھی ایسی شرارتیں کی گئی ہیں۔چنانچہ ایک افسر نے آرڈر دے دیا تھا کہ اُس کے ماتحت جتنے افراد ہیں اُن کی فرقہ وار فہرست می تیار کی جائے۔مجھے بعض دوستوں نے خطوط لکھے کہ اب کیا کیا جائے؟ تو میں نے کہا تم اپنے فرقہ کا نام نہ لکھاؤ بلکہ تم کہو ہم مسلمان ہیں۔اگر وہ پوچھیں کون سے مسلمان ؟ تو تم کہو ہم وہی مسلمان کی ہیں جن کو قرآن کریم نے مسلمان کہا ہے۔اتنے میں حکومت کو پتا لگ گیا اور اس نے کہا کہ اس قسم کے سوال نہیں کرنے چاہئیں۔پس ہمارا اصل نام مسلمان ہے۔صرف دوسرے فرقوں سے اپنے