خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 204

1952 204 (24) خطبات محمود صبر کا جو ہر دکھاؤ اور نمازوں اور دعاؤں کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کرو فرموده 11 جولائی 1952ء بمقام ربوہ ) تشهد ، تعوّذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے گزشتہ ایام میں جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ان دنوں ہم جن حالات میں سے گزر رہے ہیں ان کا علاج قرآن کریم نے یہی بیان فرمایا ہے کہ اِسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة 1 یعنی ایک طرف تو تم صبر کا جو ہر دکھاؤ، مصائب برداشت کرو، تکلیف اٹھاؤ۔اور دوسری طرف تم اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرو، نمازیں زیادہ پڑھو اور عبادت کرو۔کیونکہ جب بنی نوع انسان کسی کو دھتکارتے ہیں تو لَا مَلْجَأَ وَ لَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا اِلَیک 2 کے مطابق اس کی پناہ کی جگہ صرف خدا تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔پس تم اس مصیبت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی طرف جھکو۔جتنے کی لوگ تم پر خفا ہوتے ہیں در حقیقت اُتنا ہی دنیا یہ فیصلہ کرتی ہے کہ تم ہمارے غلام ہو۔اگر تمہیں کسی کی کی احتیاج نہیں ، اگر تمہیں کسی سے ناواجب محبت نہیں، اگر تمہیں کسی سے نا واجب ڈر نہیں تو لوگ تمہارے خلاف شور کیوں کرتے ہیں۔آخر جب ایک شخص شور کرتا ہے تو کسی چیز سے ڈرانے کے لئے کرتا ہے۔اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ تم اس کی احتیاج نہیں رکھتے تو وہ ڈرا تا کس چیز سے ہے۔اگر تم کسی کو دھتکار تے ہو تو اسی لئے کہ تم سمجھتے ہو کہ وہ تم سے ڈرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ تم اسے سزا دے سکتے ہو۔اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں اتنا طاقتور نہیں سمجھتا کہ تم اسے سزا دے سکو ، وہ جی