خطبات محمود (جلد 33) — Page 6
خطبات محمود 1952 کثرت سے اشاعت کی جاتی تھی۔اس زمانہ کے لحاظ سے کثرت کے معنی ایک دو ہزار کی تعداد کے ہوتے تھے۔بعض اوقات دس دس ہزار کی تعداد میں بھی اشتہارات شائع کئے جاتے تھے۔لیکن اب ہماری جماعت بیسیوں گنے زیادہ ہے۔اب اشتہاری پرو پیگنڈا یہ ہوگا کہ اشتہارات پچاس پچاس ہزار بلکہ لاکھ لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں پھر دیکھو کہ یہ اشتہارات کس طرح لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔اگر اشتہارات پہلے سال میں بارہ دفعہ شائع ہوتے تھے تو اب خواہ انہیں سال میں تین دفعہ کر دیا جائے اور صفحات دو چار پر لے آئیں لیکن وہ لاکھ لاکھ دو دو لاکھ کی تعداد میں شائع ہوں تو پتا لگ جائے گا کہ انہوں نے کس طرح حرکت پیدا کی ہے۔پھر کتابی حصہ ہے جو تعلیم یافتہ اور مغرور قسم کے لوگ ہیں انہیں کتابیں پیش کی جائیں۔مرکزی اور صوبجاتی جماعت کے لوگ ان کے پاس جائیں اور انہیں کتابیں دیں۔بہر حال تبلیغ کو منظم کرنے کے لئے بھی پلان بنانی چاہیے۔اس کی بہت ضرورت ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں جلد سے جلد تبلیغ کو منظم صورت میں شروع کر دینا چاہیے۔پھر تعلیم کی طرف بھی صوبجاتی جماعتوں کو توجہ نہیں جس کی وجہ سے نو جوانوں کی طاقت ضائع کی ہو رہی ہے۔انہیں یہ احساس نہیں کہ اگر وہ اپنے نوجوانوں کو دنیا کمانے پر بھی لگائیں تو اس طرح کی لگائیں کہ جماعت ان سے فائدہ اٹھا سکے۔بھیڑ چال کے طور پر نو جوان ایک ہی محکمہ میں چلے جاتے ہیں۔حالانکہ متعدد محکمے ہیں جن کے ذریعہ سے جماعت اپنے حقوق حاصل کر سکتی ہے اور اپنے آپ کو شر سے بچا سکتی ہے۔جب تک ان سارے محکموں میں ہمارے آدمی موجود نہ ہوں ان سے جماعت پوری طرح کام نہیں لے سکتی۔مثلاً موٹے موٹے محکموں میں سے فوج ہے، پولیس ہے، ایڈمنسٹریشن ہے، ریلوے ہے، فنانس (FINANCE) ہے، اکاؤنٹس ہے، کہ ہیں، انجینئر نگ ہے۔یہ آٹھ دس موٹے موٹے صیغے ہیں جن کے ذریعہ سے ہماری جماعت اپنے حقوق محفوظ کر سکتی ہے۔ہماری جماعت کے نوجوان فوج میں بے تحاشا جاتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں ہماری نسبت فوج میں دوسرے محکموں کی نسبت سے بہت زیادہ ہے اور ہم اس سے اپنے حقوق کی حفاظت کا فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔باقی محکمے خالی پڑے ہیں۔بے شک آپ لوگ اپنے لڑکوں کو نوکری کرائیں لیکن وہ نوکری اِس طرح کیوں نہ کرائی جائے جس سے جماعت فائدہ