خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 7 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 7

1952 7 خطبات محمود اٹھا سکے۔پیسے بھی اس طرح کمائے جائیں کہ ہر صیغہ میں ہمارے آدمی ہوں اور ہر جگہ ہماری آواز پہنچ سکے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے لڑکے محنتی ہوتے ہیں۔پہلے انجینئر نگ میں کسی اور کی اصول کی بناء پر نوجوان لئے جاتے تھے اب لیاقت کی بناء پر نوجوان لئے جاتے ہیں۔اور جب کمپیٹیشن (Competition) ہوتا ہے ہماری جماعت کے نو جوان بوجہ محنتی ہونے کے اس میں آ جاتے ہیں۔اس طرح وہ انجینئر نگ کی تعلیم میں اپنی نسبت سے زیادہ آگے آگئے ہیں۔لیکن خالی انجینئر نگ میں ترقی کرنا ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔پولیس، اکاؤنٹس، فنانس ، انکم ٹیکس، ایڈ منسٹریٹو سروس اور دیگر بعض اہم محکمے ہیں ان میں ہمارے لوگ بہت کم ہیں۔بلکہ بعض محکموں کی میں تو قریباً فقدان ہے۔ایک آدھ لڑ کا اگر ان محکموں میں آ گیا ہے تو اتفاقیہ طور پر آ گیا ہے ہماری وی جماعتی توجہ اس طرف نہیں۔نتیجہ یہ ہوگا کہ پنجاب میں احمدی انجینئر تو بہت ہو جائیں گے لیکن دوسرے محکمے خالی رہیں گے۔ہمیشہ کام کسی تنظیم کے ماتحت ہو تو زیادہ فائدہ دیتا ہے۔کسی ایک محکمہ میں جانے سے زیادہ فائدہ نہیں ہوتا۔ہر محکمہ میں اور ہر جگہ جانے سے فائدہ ہوتا ہے۔غرض امور عامہ کے لحاظ سے بھی جماعتی تنظیم کی ضرورت ہے۔پھر تعلیمی لحاظ سے بھی تنظیم کی ضرورت ہے۔لیکن نظارت امور عامہ یا نظارت تعلیم نے کبھی بھی نوجوانوں کی اس طرف راہنمائی نہیں کی۔ابھی ایک خاتون میرے پاس آئیں اور انہوں نے کہا کہ مجھے آپ سے اپنے لڑکوں کی تعلیم کے بارہ میں مشورہ لینا ہے۔میں نے اس خاتون سے اسی سکیم کے ماتحت بات کی اور اسے بتایا کہ نوجوانوں کو ایک ہی طرف دھکیل دینا مفید نہیں۔بعض اوقات ایک ہی محکمہ میں نو جوان زیادہ تعداد میں چلے جاتے ہیں اور ترقی پر آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔مثلاً فوج میں ہمارے نوجوان کثرت سے گئے ہیں اور اب ایسی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ بعض اوقات ترقی کے سلسلہ میں دو احمدی نوجوان آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔اگر وہ مختلف جگہوں پر جاتے تو رقابت کے دن بہت دیر سے آتے اور اتنے میں خدا تعالیٰ کوئی اور سامان کر دیتا۔پھر پیشے ہیں۔وکالت ہے، ڈاکٹری ہے، ٹھیکیداری ہے، تجارت ہے۔ان میں بھی کوئی تنظیم نہیں۔بھیڑ چال کے طور پر نوجوان ایک ہی پیشہ کی طرف چلے جاتے ہیں۔تجارت اور ٹھیکیداری کی بھی بیسیوں قسمیں ہیں۔اور اگر اس بارہ میں ناظر امور عامہ سے سوال کیا جائے تو وہ حج بھی ویسا ہی ناواقف نکلے گا جیسے کوئی اور شخص۔اس نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ ہمیں اس بارہ میں ایک