خطبات محمود (جلد 33) — Page 157
1952 157 خطبات محمود چندہ ادا کر نے کی کوشش کرنی چاہیے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارے لئے خوشی کا مقام بھی ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری آمد زیادہ ہونے کے امکانات بہت ہیں۔بیت المال کو اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ان کی کا اعلان انہیں خود مجرم بنا رہا ہے۔اول اس لئے کہ انہوں نے نقشے کے نیچے میزان نہیں دی۔اگر ان نقشوں سے ان کی غرض یہ تھی کہ جماعتوں کا آپس میں مقابلہ کیا جائے تو انہیں میزان دینی ج چاہیے تھی۔دوسرے جب انہیں مرض کا پتا لگ گیا تھا، جب انہیں معلوم ہو گیا تھا کہ خطرہ ظاہر ہے تو پھر وہ اسے دور کرنے کی کیا کوشش کر رہے ہیں۔اب تو ناظر بھی تین ہیں۔تین ناظروں کے باوجود انہوں نے کیا کیا ہے۔عملہ بڑھ جانے کے باوجود اور پھر گریڈوں میں ترقی کے باوجود می وصولی اس قدرکم ہے کہ سب سے اچھے ضلع میں وصولی چند 0 40 فیصدی ہے پھر میں دیکھتا ہوں کہ شہری جماعت سے چندہ کی وصولی بآسانی ہو جاتی ہے لیکن کراچی اور لاہور کی آمد 60 ، 70 فیصدی ہے۔سرگودھا شہر کی جماعت نہایت اچھی ہے۔اس نے سو فیصدی چندہ ادا کر دیا ہے۔پھر ضلع کی تین چار اور جماعتیں بھی ایسی ہیں کہ انہوں نے سو فیصدی چندہ ادا کر دیا ہے۔یہ نقشہ اتفاقی طور پر شائع کیا گیا ہے ورنہ جماعت کے امراء کا اپنا کام ہے کہ وہ مرکز سے اس قسم کے نقشے منگوایا ای کریں کہ اُن کے ضلعوں کی جماعتوں کی وصولی کیا ہے۔پھر اخباروں میں ایسے نقشے شائع کئے جائیں تا جماعتوں کا آپس میں مقابلہ ہو اور تا افراد کو اپنی اصلاح کا خیال رہے۔اس جماعت میں بیداری پیدا ہوتی ہے۔میں پھر کہوں گا کہ سب سے زیادہ ذمہ داری مرکز پر ہوتی ہے۔ربوہ کو باقی جماعتوں کے کی سامنے اپنا اعلیٰ نمونہ پیش کرنا چاہیے۔پچھلے دنوں میں نے تحریک کی کہ پریذیڈنٹ صاحبان ربوہ کی جماعت کے ایسے افراد کی فہرست تیار کریں جن کی عمر بارہ سال سے اوپر ہے۔اس پر جنرل پریذیڈنٹ صاحب میرے پاس ایک نقشہ بنا کر لائے۔میں نے اس پر جرح کی اور کہا کہ بقیہ حاشیہ: سوالحَمدُ لِلهِ کہ اس جماعت کا ایساست حال نہیں جیسا کہ ناظر بیت المال نے ظاہر کیا۔ایسا نقشہ اس بے احتیاطی سے شائع کرنا اور جماعت کو صدمہ پہنچانا نہایت افسوس ناک امر ہے اور ایک بہت بڑا گناہ ہے۔مگر پھر بھی کمی ، کمی ہے۔ہی میں بتا چکا ہوں کہ اس میں بھی نظارت بیت المال کی غلطی ہے۔وصولی بیاسی فیصدی ہے۔