خطبات محمود (جلد 33) — Page 148
1952 148 خطبات محمود اب بظاہر ان کو دیکھنے والا یہی خیال کرے گا کہ بڑا سادہ لوح آدمی ہے کیونکہ اس میں کوئی کچھ خوبی نظر نہیں آتی۔صرف محبت کی آنکھ سے دیکھنے والے کو خوبی نظر آسکتی ہے۔جس کی محبت کی آنکھ کھلی ہوگی وہ وجد میں آ جائے گا اور کہے گا کیا عشق ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔صحابہ کرام ہمیشہ یہ کوشش کیا کرتے تھے کہ انہیں جو بات بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معلوم ہو اُس پر عمل کریں۔پس کوشش تو ہماری یہ ہونی چاہیے کہ ہم نئے نئے راستے سوچیں جن سے ہم اسلام کی خدمت سرانجام دے سکیں اور جن سے زیادہ سے زیادہ دین کے قیام اور اس کی اشاعت میں مدد ملے نہ یہ کہ آسان ترین تدبیریں ہمارے سامنے آئیں اور ہم ان کو نظر انداز کر دیں۔پس میں جماعت کے اُن دوستوں کو جور بوہ میں رہتے ہیں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ایک مہینہ گزر چکا ہے اور انہوں نے اس بارہ میں ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا۔اب نہ پچھلا مہینہ واپس آسکتا ہے، نہ پچھلے ہفتے واپس آسکتے ہیں اور نہ اس مہینے کا پہلا سو دایا ہر ہفتے کا پہلا سو دا وا پس آسکتا ہے۔اب انہیں اپنے دل میں خود غور کرنا چاہیے کہ وہ اس کمی کا کس طرح ازالہ کر سکتے ہیں۔اور اگر پہلی کمی کا ازالہ نہ کر سکتے ہوں تو کم سے کم آئندہ کے لئے ہی انہیں ہوشیار ہو جانا چاہیے۔مزدوروں کے لئے بھی مہینہ کا پہلا دن مقرر ہے اور مستریوں اور لوہاروں کے لئے بھی مہینے کا پہلا دن مقرر ہے کہ ہر مہینہ کی پہلی تاریخ یا مہینہ کا کوئی اور دن مقرر کر کے ) اُس دن جو مزدوری مل جائے اُس کا دسواں حصہ مسجد فنڈ میں دے دیا کریں۔تاجروں میں سے تھوک فروش تاجروں کے لئے یہ فیصلہ ہے کہ وہ ہر مہینہ کی پہلی تاریخ کا پہلاسو دا خدا تعالیٰ کے نام پر کریں اور اس کا منافع مسجد فنڈ کے لئے دے دیں۔چھوٹے تاجر ہر ہفتہ کے دن کے پہلے سو دے کا منافع مسجد فنڈ میں دیا کریں۔جن پیشہ وروں ، تاجروں اور مزدوروں وغیرہ نے ایک مہینہ ضائع کر دیا ہے اُن کا علاج بہر حال اُن کے ذمہ ہے۔وہ خود سوچیں اور مافات کی تلافی کی کوشش کریں اور آئندہ کے لئے بہتر نمونہ قائم کریں تا کہ اس کا اثر بیرونی جماعتوں پر بھی پڑے کی اور وہ دیکھیں کہ ربوہ والوں نے اپنے عہد کو کس خوبی سے نباہا ہے۔میں سمجھتا ہوں جوں جوں ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرتی جائے گی کروڑوں کروڑ روپیہ اس سکیم کے ماتحت ہر سال مسجدوں کے لئے جمع ہو جایا کرے گا۔اب بھی اگر پوری تنظیم سے کام لیا جائے تو ساٹھ ستر بلکہ اسی ہزار روپیہ بڑی آسانی سے جمع ہوسکتا ہے۔