خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 147

1952 147 خطبات محمود رض پندرہ سال سے ایمان لا چکے تھے، کوئی بیس سال سے ایمان لا چکے تھے۔حضرت ابو ہریرہ ہے جب کی ایمان لائے تو انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب بڑھاپے کی عمر میں ہیں اور زیادہ وقت گزر چکا ہے۔چنانچہ انہوں نے قسم کھائی کہ میں اب مسجد میں ہی بیٹھا رہوں گا اور جب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائیں گے میں آپ کی باتیں سنوں گا۔اس نے التزام کا نتیجہ یہ ہوا کہ گو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف تین سال پہلے مسلمان حج ہوئے تھے مگر اس تین سالہ عرصہ میں چونکہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا اس لئے جتنی حدیثیں ابو ہریرہ سے مروی ہیں اتنی کسی پرانے سے پرانے صحابی سے بھی مروی نہیں۔حالانکہ وہ دس دس پندرہ پندرہ سال پہلے ایمان لا چکے تھے۔وجہ یہی تھی کہ وہ اور کام بھی کرتے رہتے تھے اور حضرت ابو ہریرۃ ہر وقت مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔ایسے ہی لوگوں میں کی سے حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی تھے۔خدا تعالیٰ نے ان کو ( غالباً) یہ فضیلت عطا فرمائی تھی کہ حضرت عمر ان کے باپ بعد میں مسلمان ہوئے تھے اور وہ خود پہلے مسلمان ہو چکے تھے۔غالباً وہ چھوٹے بچے ہی تھے جب مسلمان ہو گئے۔وہ بھی ہر وقت کوشش کرتے تھے ( گوابو ہریرۃ جتنی نہیں ) کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور ان پر عمل کریں۔ย ایک دفعہ آپ حج کے لئے جا رہے تھے کہ لوگوں نے دیکھا کہ ایک جگہ پہنچ کر انہوں نے قافلہ ٹھہرا لیا اور راستہ سے ہٹ کر ایک مقام پر اس طرح کھڑے ہو گئے جس طرح کوئی شخص پیشاب کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور پھر واپس آگئے۔ایک ساتھی نے دیکھا کہ جہاں وہ چی کھڑے ہو گئے تھے وہاں پیشاب کا ایک قطرہ بھی نہیں گرا۔اس پر اس نے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا کیا ہے؟ ہم نے تو یہ سمجھا تھا کہ آپ کو پیشاب آیا ہوا ہے مگر وہاں تو ایک قطرہ بھی نہیں گرا۔انہوں نے فرمایا اصل بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے بعد حج کے لئے تشریف لے گئے تو یہاں آپ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تھا۔( معلوم ہوتا ہے وہ جگہ گندی تھی ہی اور انسان بیٹھ نہیں سکتا تھا ورنہ عام حالات میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنا منع ہے ) جب میں یہاں کی سے گزرتا ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ چلو آپ کی اس سنت پر بھی عمل کر لوں۔چنانچہ گوی مجھے پیشاب نہیں آیا تھا مگر میں نے کوشش کی کہ میں وہ کام کر لوں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نے کیا تھا 4۔