خطبات محمود (جلد 33) — Page 128
1952 128 خطبات محمود عزت نہیں کرتی۔مگر یہی چیز دنیا کے پردہ پر کسی وقت مسلمان کو حاصل تھی۔ایک ادنیٰ سے ادنیا حیثیت کا مسلمان بھی جب باہر نکلتا تھا تو دنیا کی طاقتیں جانتی تھیں کہ گو یہ مسلمان ان پڑھ ہے، مزدور ہے لیکن اگر ہم نے اس مسلمان کو چھیڑا تو چین سے لے کر اندلس تک ساری اسلامی دنیا میں تہلکہ مچ جائے گا۔سیلون سے ایک قافلہ آتا ہے اور ہندوستان میں لوگ اسے لوٹ لیتے ہیں ، کچھ عرب عورتیں بھی قید ہو جاتی ہیں اور وہ کسی کے ذریعہ سے عراق میں پیغام بھجواتی ہیں کہ عرب عورتوں کی عزت تمہارے ہاتھ میں ہے۔وہ اپنے ناموس کے تحفظ کا تم سے مطالبہ کرتی ہیں۔اُس وقت بنو امیہ کی مج ایران سے ایک طرف اور پین سے دوسری طرف جنگ کی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ اچانک یہ کی پیغام پہنچتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا ایک قافلہ لوٹا گیا ہے اور کچھ مسلمان قید کر لئے گئے ہیں۔بادشاہ نے کہا اس وقت ہمارے سامنے ایک بہت بڑی مہم ہے میں اس وقت کسی اور طرف توجہ نہیں کر سکتا۔لیکن جب اسے یہ پیغام دیا گیا کہ ان قید ہونے والوں میں کچھ مسلمان عورتیں کی بھی تھیں جنہوں نے اپنے ناموس اور اپنی عزت کے تحفظ کا ملک سے مطالبہ کیا تھا تو بادشاہ یکدم کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا کہ باوجود موجودہ جنگوں کے لشکر فوراً ہندوستان کی طرف روانہ کرو۔چنانچہ مسلمان لشکر ہندوستان میں پہنچا اور وہ اُس وقت تک واپس نہیں گیا جب تک ا نے اس ملک کو فتح نہیں کر لیا مگر یہ تو طاقت کے زمانہ کی بات تھی۔جب مسلمان اپنی شاندار حکومت قائم کر رہے تھے۔اس زمانہ میں جب مسلمان بالکل گر چکے تھے ، خلافت صرف نام کی باقی رہ گئی تھی ، اسلامی خلیفہ صرف بغداد کا خلیفہ کہلاتا تھا، عرب کی الگ حکومت قائم ہو چکی تھی ، حلب کی الگ حکومت قائم ہو چکی تھی ، مصر کی الگ حکومت قائم ہو چکی تھی ، خراسان کی الگ حکومت کی قائم ہو چکی تھی گویا مسلمان حکومت ٹکڑے ٹکڑے ہو چکی تھی صرف خطبوں میں خلیفہ کا نام لیا جاتا تھا۔اور کہا جاتا تھا کہ خدا فلاں عباسی خلیفہ کی شہرت کو بڑھائے اور اس کی عزت کو قائم کرے لیکن عملاً ہر علاقہ میں الگ الگ حکومتیں قائم تھیں۔خلافت کا اقتدار مٹ چکا تھا، صلیبی جنگیں شروع ہو گئی تھیں اور عیسائی پھر مسلمان ممالک کو فتح کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ان کی فوجیں فلسطین میں اتر رہی تھیں اور عہ انہوں نے فتح کر لیا تھا۔اُس وقت ایک مسلمان عورت کو عیسائیوں نے پکڑی