خطبات محمود (جلد 33) — Page 129
1952 129 خطبات محمود لیا۔وہ عورت ان پر انے جاہل طبقہ کے لوگوں میں سے تھی جو انگریزوں کے زمانہ میں بھی یہ خطبہ کی پڑھا کرتے تھے کہ خدا ہمارے بادشاہ جہانگیر کی عزت بلند کرے۔وہ بے چاری بھی ایسی ہی تھی اُسے پتا نہیں تھا کہ خلیفہ کیا ہوتا ہے۔صرف اس نے سُنا ہوا تھا کہ مسلمانوں کا ایک خلیفہ ہوتا ہے اور اس کی بڑی طاقت ہوتی ہے۔جب اس عورت کو گرفتار کرنے کے لئے عیسائیوں نے ہاتھ ڈالا تو اس خیال کے ماتحت کہ مجھے کیا ڈر ہے جبکہ ہمارا ایک خلیفہ موجود ہے۔اس نے زور سے آواز دی کہ میں خلیفہ سے اپنی فریاد کرتی ہوں۔اُس وقت ایک مسلمان قافلہ وہاں سے گزررہا تھا ؟ اُس نے یہ آواز سنی اور ہنستے ہوئے وہاں سے چل پڑا کہ یہ عورت کیسی بیوقوف ہے اسے اتنا بھی کی معلوم نہیں کہ ہمارے خلیفہ کی آجکل کیا حالت ہے اور وہ اس کی کچھ مدد بھی کر سکتا ہے یا نہیں۔چلتے چلتے قافلہ ایک دن بغداد پہنچا۔قافلہ کے پہنچنے پر شہر کے تمام لوگ اکٹھے ہو گئے اور باتوں باتوں میں پوچھنے لگے کہ سفر کی کوئی عجیب بات سناؤ۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ سب سے بڑا عجوبہ ہم نے یہ دیکھا کہ ایک مسلمان عورت کو عیسائیوں نے پکڑ لیا تو وہ عورت بلند آواز سے کہنے لگی کہ میں خلیفہ سے اپنی فریاد کرتی ہوں حالانکہ ہمارا خلیفہ تو بغداد سے بھی نہیں نکل سکتا اور وہ شام میں بیٹھی ہوئی خلیفہ کو اپنی مدد کے لئے بلاتی ہے۔یہ لطیفہ شہر میں پھیلنا شروع ہوا۔یہاں تک کہ پھیلتے پھیلتے دربار خلافت میں بھی پیش ہو گیا۔کسی شخص نے خلیفہ وقت سے کہا کہ اس طرح کی شام کے علاقہ میں ایک مسلمان عورت کو عیسائیوں نے گرفتار کر لیا ہے اور ہم نے سنا ہے کہ جب وہ گرفتار ہوئی تو اُس نے بلند آواز سے کہا کہ میں خلیفہ کو اپنی مدد کے لئے پکارتی ہوں۔خلافت اُس وقت مٹ چکی تھی ، اسلامی حکومت تنزل میں جا رہی تھی لیکن ابھی وہ زمانہ نہیں آیا تھا کہ بادشاہت کی یو بھی ان کے دماغ سے اُڑ گئی ہو۔جب یہ روایت خلیفہ کے سامنے بیان کی گئی تو وہ عباسی بادشاہ اپنے تخت سے فوراً نیچے اتر آیا اور اُس نے کہا خدا کی قسم ! اگر اس مسلمان عورت نے مجھ پر اعتبار کیا ہے تو میں بھی اب واپس نہیں لوٹوں گا جب تک کہ اس عورت کو آزاد نہ کرالوں۔اُس وقت مسلمان گو متفرق ہو چکے تھے مگر خلافت سے محبت ابھی کچھ باقی تھی اور اسلام کی طاقت کی یا دان کے ذہنوں میں تھی۔جب انہوں نے دیکھا کہ اس مُردہ اور سڑے گلے جسم میں بھی زندگی کا خون دوڑ نے لگ گیا ہے تو سارے شہر میں ایک آگ لگ گئی۔بغداد پندرہ بیس لاکھ کا کچھ