خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 120

1952 120 خطبات محمود ہیں۔ان تمام چیزوں کو دیکھ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ آخر یہ چیز کسی نہ کسی غرض کے لئے بنائی گئی ہے۔نشیب وفراز بتاتے ہیں کوئی ہمیں بلندی کا سبق دے رہا ہے ، کوئی ہمارے دلوں میں قوت عملیہ کا شوق پیدا کر رہا ہے۔جیسے تم نے گھروں میں اپنے چھوٹے بچوں کو یا بھائیوں کو اور بھتیجوں کے بچوں کو دیکھا ہو گا کہ جب کوئی بچہ چلنے لگتا ہے تو ماں باپ یا بھائی وغیرہ روٹی کا کوئی ٹکڑا یا پھل یا پھول اُسے دکھاتے ہیں کہ کھڑے ہو کر ہم سے لے لو۔بچہ اُسے دیکھتا ہے اور وہ کی کانپتے اور لڑ کھڑاتے ہوئے کھڑا ہوتا ہے۔اس پر وہ اپنا ہاتھ ذرا پیچھے کر لیتے ہیں تا کہ بچہ ایک کی قدم آگے بڑھے اور اسے لینے کی کوشش کرے۔چنانچہ بچہ بڑی مشکل سے ایک قدم چلنے کی کوشش کرتا ہے۔بعض دفعہ وہ رگر بھی پڑتا ہے مگر پھر اُٹھتا ہے اور ایک قدم چل کر روٹی کا ٹکڑا یا پھل یا تی پھول لے لیتا ہے اور وہ خوش ہوتا ہے کہ میں نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔اُس کے چند گھنٹہ بعد وہ پھر اُسے روٹی کا ٹکڑا دکھاتے ہیں اور بچہ سمجھتا ہے کہ ایک قدم پر یہ ٹکڑا مجھے مل جائے گا۔مگر اب کی دفعہ ایک قدم پر اُسے وہ چیز نہیں دی جاتی بلکہ دو قدم اُٹھانے پر اُسے چیز دی جاتی ہے۔اسی طرح اُس کا حوصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔اُس کی طاقت زیاد ہوتی چلی جاتی ہے اور پھر وہ رفتہ رفتہ اتنی طاقت پیدا کر لیتا ہے کہ سینکڑوں میل تک چلتا چلا جاتا ہے۔مسلسل نہیں بلکہ اگر اسے مہینہ دو ی مہینے یا سال بھر بھی پیدل سفر کرنا پڑے تو وہ کر لیتا ہے۔چنانچہ کئی لوگ ایسے ہوئے ہیں جن کی کی ساری عمر سفروں میں ہی گزرگئی ہے۔اور انہوں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے سفر کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک دوست ہوا کرتے تھے۔وہ میرے استاد بھی تھے۔انہیں حساب میں بڑا ملکہ تھا۔مگر ساتھ ہی اُن کے دماغ میں بھی کچھ نقص تھا۔انہیں یہ وہم ہو گیا تھا کہ محمدی بیگم والی پیشگوئی اُن کے ذریعہ سے پوری ہوئی ہے اور اس وجہ سے وہ کئی ایسی حرکتیں کرتے رہتے تھے جو تکلیف دہ ہوا کرتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تج عادت تھی کہ بات کرتے وقت بعض دفعہ اپنی ران پر ہاتھ مارتے تھے۔حدیثوں میں بھی پیشگوئی کی آئی ہے کہ مسیح موعود فخذ پر ہاتھ مار کر بات کرے گا۔4 بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة في والسلام نے جب کبھی مجلس میں بات کرتے ہوئے ران کی طرف ہاتھ لا نا تو انہوں نے جھٹ گو کر آگے آجانا۔لوگوں نے پوچھنا آپ کو کیا ہوا؟ وہ کہتے تمہیں معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے در حقیقت مجھے اشارہ کیا تھا۔اس طرح مجلس میں بہت بدمزگی پیدا ہو جاتی۔ایک دفعہ