خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 113

1952 113 خطبات محمود قربانی کی عادت پیدا ہو جائے تو چھوٹی جماعت بھی بڑی جماعتوں پر غالب آ جایا کرتی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ كَمُ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللہ 2 دنیا میں کتنی ہی چھوٹی جماعتیں ہوئی ہیں جو بڑے بڑے گروہوں پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے غالب آ گئی ہیں۔اس غلبہ کی وجہ یہی تھی کہ ان میں قربانی اور ایثار کا مادہ تھا۔وہ اپنا وقت ضائع کی کرنے کی بجائے اسے مفید کاموں میں صرف کرنے کے عادی تھے۔ان میں دیانت تھی ، ان کی میں صداقت تھی ، ان میں محنت کی عادت تھی ، ان کے حوصلے بلند تھے، ان کے ارادے پختہ تھے اور ان کے مقابل پر جو لوگ کھڑے تھے وہ ان اوصاف سے خالی تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ قلیل غالب آگئے اور کثیر مغلوب ہو گئے۔حقیقت یہ ہے ایک ایک آدمی جس میں ایثار کا مادہ ہوتا ہے وہ درجنوں پر بھاری ہوتا ہے۔پاگل کو ہی دیکھ لو لوگ اُس کا مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔حالانکہ وہ اکیلا ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ لوگ ڈرتے ہیں کہ اُنہیں چوٹ نہ آجائے ، ان کو زخم نہ لگ جائے اور وہ اپنی طاقت کو صرف ایک حد تک استعمال کرتے ہیں لیکن پاگل کے لئے چوٹ اور زخم بلکہ موت کا بھی کوئی سوال نہیں ہوتا۔اسی لئے وہ اپنی طاقت اس حد تک استعمال کرتا ہے جس حد تک ایک سمجھدار انسان استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور وہ اکیلا ہونے کے باوجود دوسروں پر غالب آ جاتا ہے۔اسی طرح اگر ہمارے نوجوانوں میں قربانی اور ایثار کا مادہ ہو اور اگر دینی طور پر وہ مجنونانہ رنگ اپنے اندر رکھتے ہوں اور وہ اپنی محنت اور اپنی قربانی کو اس حد تک پہنچا دیں کہ جس حد تک پہنچانے سے دوسرے لوگ گھبراتے ہوں تو پھر ہمارے ایک ایک آدمی کے مقابلہ میں اُن کے دس دس پندرہ پندرہ بلکہ ہمیں ہمیں آدمی بھی بیچ ہو جائیں گے۔غرض تعلیمی محکمہ آئندہ نسل کی اصلاح اور اُس کی درستی کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اور ہمارے تمام سکولوں اور کالجوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور نو جوانوں کی ایسے رنگ میں تربیت کریں کہ وہ سلسلہ کے لئے مفید وجود بن سکیں۔وہ نسل جس میں قربانی اور ایثار کا مادہ نہیں جو جوش اور جنون سے خالی ہے وہ ہمارے آنے والے دس سال کو ضائع کر دیتی ہے اور یہ ہمارے لئے ایک بہت بڑے خوف کا مقام ہے۔کیونکہ دس سال کے بعد پھر ہمیں ایک نئی جدوجہد کرنی پڑے گی۔اور پھر ایک اور نسل کی تربیت کر کے اُس کے اخلاق کو کی