خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 98

1952 98 خطبات محمود تو وہ سیدھا چل پڑے گا اور کچھ دور تک وہ چلتا جائے گا۔کیونکہ پیسے میں یہ خاصیت ہے کہ وہ کی دھکا دینے سے کچھ دور تک چلا جاتا ہے اور دیکھنے والا یہ خیال کر سکتا ہے کہ شاید اس میں رُوح ہے یا شاید اُس میں دماغ ہے۔لیکن پچاس ساٹھ گز کے بعد وہ گر جائے گا۔لیکن ایک انسان کی میلوں میں چلے گا اس لئے کہ اُس میں دماغ ہے ، ارادہ ہے۔ایک پہیہ دھگا دینے سے میلوں میں نہیں چلے گا بلکہ کچھ دور جا کر گر جائے گا۔اس لئے کہ انسان میں انفرادیت پائی جاتی ہے لیکن پیسے میں انفرادیت نہیں پائی جاتی۔ایک پرزہ کو دھگا دو تو تھوڑی دور جا کر اُس کی حرکت ختم ہو جاتی ہے۔لیکن چلنے والا انسان پرزہ نہیں وہ ایک مستقل وجود ہے، اس کی انفرادیت زندہ ہے، اُس کے اندر ارادہ اور مقصد پایا جاتا ہے اس لئے وہ اُس وقت تک چلتا جائے گا جب تک اُس کا مقصد پورا نہ ہو۔مگر پہیہ ایسا نہیں کرے گا۔اسلام انفرادیت کو ایک قیمتی وجود قرار دیتا ہے اور اس پر خاص زور دیتا ہے۔پس تم اپنی شخصیت اور انفرادیت کو پختہ کرو۔اگر تم اجتماعی روح کے ساتھ انفرادیت اور کی شخصیت کی روح کو اُجاگر کرو گے تو تم جن لوگوں کو اپنا نمائندہ چنو گے وہ پختہ کار اور متقی ہوں گے۔اور اگر نمائندے پختہ کار اور متقی ہوں گے تو جو مشورہ وہ دیں گے وہ صحیح ہوگا۔اور جو مشورہ وہ دیں گے وہ پورا بھی ہوگا۔کیونکہ اگر تم پختہ کار اور متقی نمائندے چنو گے تو تم بھی پختہ کار اور کی سنجیدہ بنو گے اور ان کے مشورہ پر عمل کر کے دکھا دو گے۔تم اس چکر کو صحیح بناؤ تا تمہارا نام صحیح نتائج کے پیدا کرے اور وہ کام جو خدا تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے اور خدا تعالیٰ نے اسے جاری کیا ہے یا اُس نے اُسے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے وہ ہو بھی جائے اور ہمارے ہاتھوں سے بھی کی الفضل 23 اپریل 1952ء) ہو جائے۔