خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 58

1952ء 58 خطبات محمود سخت سے سخت دل بھی ہل جاتا ہے۔ پرانے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی ابھی بچے ہی تھے کہ ان کی والدہ نے انہیں اپنے بھائی کے پاس بھیجا جو ایک بہت بڑے تاجر تھے۔ آپ کی والدہ نے آپ کے گرم کپڑے میں ( جو پرانا ہو جائے تو لوگ اُسے گدڑی کہتے ہیں ) چند اشرفیاں سی دیں اور کہا کہ وہاں پہنچ کر یہ اشرفیاں نکلوا لینا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس قافلہ میں آپ جا رہے تھے اُس پر ڈاکہ پڑا اور ڈاکوؤں نے سب افراد کولوٹ لیا۔ لیکن سید عبد القادر جیلانی کو بچہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور یہ خیال کیا کہ اس کے پاس کیا ہوگا۔ لیکن ڈاکوؤں میں سے کسی نے اُن سے بھی پوچھ لیا کہ کیا تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ آپ نے کہا ہاں میرے پاس اتنی اشرفیاں ہیں۔ ڈاکو نے دریافت کیا وہ اشرفیاں کہاں ہیں؟ آپ نے گرم کپڑے کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ اشرفیاں اِس میں سی ہوئی ہیں ۔ ڈاکوؤں کا سردار اس ڈاکو پر جو آپ سے باتیں کر رہا تھا ۔ ناراض ہوا اور کہا اس بچہ کے پاس کیا ہو گا تم یونہی وقت ضائع کر رہے ہوا سے چھوڑ دو لیکن اس نے کہا یہ کہتا ہے میرے پاس اتنی اشرفیاں ہیں ۔ چنانچہ گدڑی کو پھاڑا گیا تو اس میں سے اشرفیاں نکل آئیں ۔ سردار بہت حیران ہوا اور اُس نے سید عبد القادر صاحب جیلانی سے کہا کہ بیوقوف بچے ! ہمیں پتا بھی نہیں تھا کہ تمہارے پاس کچھ ہوگا اس لئے ہم نے تمہیں چھوڑ دیا تھا تم چپ کیوں نہ کر رہے تم نے یہ کیوں نے کہہ دیا کہ میرے پاس کچھ نہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی " بوجہ بچہ ہونے کے سچائی کی اہمیت کو نہ سمجھتے ہوں ۔ لیکن وہ یہ ضرور جانتے تھے کہ ” ہے“ کو ” ہے ہی کہنا چاہیئے اور ”نہیں“ کو ”نہیں“ کہنا چاہیے ۔ انہوں نے ڈاکوؤں کے سردار سے کہا جب میرے پاس اشرفیاں تھیں تو میں یہ کیوں کہتا کہ میرے پاس کچھ نہیں ۔ آپ کی اس بات کا سردار پر ایسا اثر ہوا کہ اس نے آئندہ ڈاکہ ڈالنا چھوڑ دیا ۔ 5 اس نے خیال کیا کہ ایک بچہ تو جھوٹ کو جھوٹ کہتا ہے اور سچ کو سچ کہتا ہے اور ایسا کہنے میں کوئی ڈر محسوس نہیں کرتا لیکن میں جو اتنا بڑا ہوں ، ڈاکے ڈالتا ہوں اور جب حکومت پوچھتی ہے کہ کیا تم نے فلاں ڈاکہ ڈالا ہے؟ تو میں جھوٹ بول دیتا ہوں کہ میں تو اُس رات فلاں جگہ گیا ہوا تھا مجھے علم نہیں ۔ چنانچہ آپ کے اسی نمونہ کی وجہ سے یہ مثل مشہور ہو گئی کہ چوروں قطب بنایا، کیونکہ بچپن میں ہی آپ کے منہ سے ایک ایسی بات نکلی جس کی وجہ سے ڈاکوؤں کے ایک سردار کی اصلاح ہو گئی۔