خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 367

1952ء 367 خطبات محمود اُسے جانے نہ دو جب تک وہ اپنے آپ کو اُس بچہ کا باپ ثابت نہ کر دے۔ اگر کوئی شخص بچہ اٹھائے ہوئے لے جا رہا ہو تو اگر وہ شرارت سے ایسا کر رہا ہے تو بچے کی شکل سے ہی معلوم ہو جائے گا کہ اٹھا کر لے جانے والے کا بچہ سے کوئی رشتہ نہیں ۔ لاز ما بچہ گھبرایا ہوا ہو گا۔ بے شک بعض دفعہ مٹھائی وغیرہ دے کر بھی بچوں کو چپ کرا لیا جاتا ہے لیکن بچے گھبرائے ہوئے ضرور ہوتے ہیں اور اُن کے چہروں سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ شخص اُنہیں جبراً اٹھا کر لے جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے یہ مستقل ہدایت دی ہوئی ہے کہ جب بھی ایسا بچہ دیکھو اُس شخص کو دفتر میں لے جاؤ اور جب تک وہ اپنے آپ کو اُس بچہ کا باپ ثابت نہ کر دے اسے نہ چھوڑو ۔ یہی وجہ ہے کہ چالیس سال سے جماعت کے اتنے بڑے جلسے ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک خدا تعالیٰ کے کی دار ہیں فضل سے ایک واقعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ جلسہ کے موقع پر کوئی بچہ گم ہو گیا ہو۔ خدا تعالیٰ کرے کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہو۔ پس ان کاموں کے لئے بعض آدمیوں کو لگانا پڑتا ہے ۔ دوسرے لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اگر یہ لوگ پھرتے ہیں تو اپنی ڈیوٹیوں کی وجہ سے پھرتے ہیں ۔ انہیں اُن کی نقل کر کے جلسہ گاہ سے نہیں اٹھنا چاہیے ۔ یہ لوگ جاگتے ہیں اس لئے کہ تم سوؤ ۔ یہ لوگ چوکس رہتے ہیں اس لئے کہ تمہارے بچے گم نہ ہوں ۔ اگر انہیں دیکھ کر تم ان کی نقل کرنے لگ جاتے ہو تو یہ ایک برا بدلہ ہے جو تم اُن کی خدمت کا دیتے ہو۔ پس باہر والے لوگ اگر جلسہ گاہ میں بیٹھ سکتے ہیں اور تقاریر سن سکتے ہیں تو وہ جلسہ سالانہ پر آئیں ورنہ نہ آئیں ۔ اگر احمدی دوست جلسہ سالانہ کے موقع پر بعض غیر از جماعت لوگ ساتھ لاتے ہیں تو وہ پہلے یہ دیکھ لیں کہ آیا وہ ان چند دنوں کے لئے اُن پر کنٹرول کر سکتے ہیں یا نہیں ۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اُن پر کنٹرول کر لیں گے تو انہیں ساتھ لائیں ۔ اگر وہ پہلے سے بیمار ہیں لیکن شوق کی وجہ سے جلسہ سالانہ پر آجاتے ہیں یا یہاں آکر بیمار ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی بیٹھکوں اور بیرکوں میں لیٹ کر آرام کریں۔ بیمار ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جا کر علاج کرائیں۔ وہ بازاروں میں نہ پھریں، دکانوں پر نہ بیٹھیں کیونکہ وہ خود تو معذور ہیں لیکن دوسرے لوگ دیکھ کر اُن کی نقل کریں گے ۔ پس میں باہر سے آنے والوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس سال اس ارادہ کے ساتھ یہاں آئیں کہ وہ تقاریر پورے انہماک سے سنیں گے ۔ اور جلسہ کے دوران میں اِدھر اُدھر