خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 368

خطبات محمود 368 1952 بازاروں میں نہ پھریں گے تا جماعت کے دوستوں کو جلسہ کے موقع پر تقاریر سننے کی عادت پڑ جائے اور ہمارا جلسہ جو کچھ عرصہ سے میلوں کا سا رنگ پکڑ رہا ہے پھر سے جلسہ کا رنگ اختیار کرلے۔ہمارا جلسہ اپنے ساتھ بہت سی روحانی برکات رکھتا ہے۔اگر کوئی شخص مسجد میں جاتا ہے اور وہاں یونہی بیٹھ رہتا ہے، عبادت نہیں کرتا تو کیا تم اُس کے اس فعل کو عبادت کہو گے؟ اس طرح جو لوگ جلسہ سالانہ پر مرکز میں آتے ہیں اگر وہ یہاں آکر جلسہ کی تقاریر سے پوری طرح مستفید نہیں ہوتے تو اُن کا یہاں آنا بھی کسی برکت کا موجب نہیں ہوگا۔پس باہر سے آنے کی والوں اور یہاں کے مقامی لوگوں دونوں کو اپنی اصلاح کر لینی چاہیے۔پچھلے جمعہ میں میں نے مقامی لوگوں کو نصیحت کی تھی کہ وہ اس سال ایک روٹی بھی ضائع نہ کی ہونے دیں۔یہ سخت مہنگائی کا زمانہ ہے۔جو شخص جلسہ کے موقع پر ایک روٹی بھی ضائع کرتا ہے کی وہ جماعت سے غداری کرتا ہے۔وہ اُن کارکنوں سے غداری کرتا ہے جن کو زیادہ اخراجات ہو جانے کی وجہ سے آئندہ تنخواہیں نہیں ملیں گی۔وہ ربوہ کے دکانداروں سے غداری کرتا ہے جن کے کاروبار محض کارکنوں کو تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے تباہ ہو جائیں گے۔“ 66 الفضل 23 دسمبر 1952ء) :1 چوب دار عصا بردار، نقیب۔وہ نوکر جو سونے یا چاندی کا خول چڑھا ہوا عصا لے کر امیروں کے آگے آگے چلتا ہے۔2: کرانک بیماری: پرانی بیماری 3: نان پر : نانبائی