خطبات محمود (جلد 33) — Page 343
1952 343 خطبات محمود میں حصہ لینے والے اخلاص میں کم ہیں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ کارکن کام میں سست ہیں۔اس لئے اس دور کا چندہ پورے طور پر وصول نہیں ہوتا۔وعدوں کے لحاظ سے دور دوم کے مخلصین بھی ترقی کر رہے ہیں۔پچھلے سال ایک لاکھ بیس ہزار کے وعدے تھے اور اس سال ایک لاکھ چالیس ہزار کے وعدے تھے۔لیکن پچھلے سال 69 فیصدی وعدے وصول ہوئے تھے اور اس سال 64 فیصدی وعدے وصول ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سال گزشتہ سال کی نسبت رقم زیادہ آئی ہے مگر فیصدی نسبت کم ہوگئی ہے۔اسی طرح میں واقفین کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اخلاص کو دیکھیں وقت کو نہ دیکھیں۔عاشق وقت کو نہیں دیکھا کرتا نو کر وقت کو دیکھتا ہے۔ہمارے ہاں تو اصل غرض کام سے ہے۔کام کو وقت پر کریں۔اب تو یہ ہوتا ہے کہ اگر کہیں کوئی نقص ہو جاتا ہے تو میں دفتر کو توجہ دلاتا ہوں۔پھر کچھ عرصہ کے بعد دوبارہ دریافت کرتا ہوں تو مجھے بتایا جاتا ہے کہ تین ماہ ہوئے ہم نے ایک خط لکھا تھا مگر اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔گویا ایک خط لکھ کر تین ماہ تک خاموشی طاری رہتی ہے۔حالانکہ چاہیے یہ تھا کہ ہر دس دن کے بعد خط لکھا جاتا۔میں یاد کراتا ہوں تو خط لکھتے ہیں۔سستی کی علامت ہے اور مومن کو اس سے بچنا چاہیے۔میں نو جوانوں سے کہتا ہوں کہ وہ وقت کی قدر کو سمجھیں۔جو بھاگنے والے ہیں میں انہیں کچھ نہیں کہتا۔بلکہ میں خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہوں کہ ہمیں اُن سے نجات مل گئی۔لیکن جو نوجوان وقف میں نہیں آئے انہیں میں کہتا ہوں کہ اخلاص سے آگے آؤ۔ہمیں لاکھوں نوجوانوں کی ضرورت ہے۔اگر ہر پانچ سو افراد پر بھی ایک مبلغ ہو تو دوارب بیس کروڑ کی آبادی کے لئے ہمیں نہ پچاس لاکھ مبلغین کی ضرورت ہے۔ابھی وہ زمانہ نہیں آیا کہ ہم تبلیغ کے فرض سے فراغت حاصل کرلیں اور نہ کوئی ایسا وقت آ سکتا ہے۔اگر ایسے موقع پر نوجوان قربانی نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔تم کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انسان کی زندگی کا بہترین مصرف یہی ہے کہ وہ خدا تعالی کی ی راہ میں خرچ ہو۔جو شخص اسے پھٹی سمجھتا ہے اُس کے ایمان میں کمزوری پائی جاتی ہے اس کمزوری کو دور کرنا چاہیے۔جس کا ایمان مضبوط ہوتا ہے وہ اس موقع پر آگے بڑھتا ہے۔صحابہ کو دیکھ لو اُن میں یہ رُوح کس حد تک پائی جاتی ہے۔حضرت ابو ہریرۃ بہت بعد میں مسلمان ہوئے تھے۔لیکن جب مسلمان ہوئے تو پھر ہمیشہ مسجد میں ہی رہے۔آپ فرماتے تھے کہ رض