خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 326

1952ء 326 خطبات محمود ۔ اُس شخص پر گرفت کرتا ہے جس پر حجت پوری ہو جاتی ہے ۔ اگر ہم اُس تک خدا تعالیٰ کے پیغام کو پر پہنچائیں گے تو حجت بھی پوری ہوگی ۔ اور اگر ہم اُس تک خدا تعالیٰ کا پیغام نہیں پہنچاتے تو اُس پر حجت پوری نہیں ہو سکتی ۔ پس تحریک جدید کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ اسلام کے نام کو روشن کیا جائے اور قرآن کریم کے پیغام کو دنیا تک پہنچایا جائے ۔ اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے تحریک جدید کے ماتحت بیرونی دنیا میں مبلغ بھجوائے گئے ۔ تحریک جدید کے جاری ہونے سے قبل صرف چند ممالک میں ہمارے مبلغ تھے ۔ ایک مبلغ امریکہ میں تھا، ایک مبلغ انگلینڈ میں تھا ، ایک شام میں تھا ، افریقہ اور انڈونیشیا میں بھی ہمارے مبلغ تھے لیکن تحریک جدید کے جاری ہونے کے بعد انڈونیشیا کے مبلغ کئی گنا زیادہ ہو گئے ۔ امریکہ کے مبلغ چار گنا زیادہ بڑھ گئے ۔ ہالینڈ ، جرمنی ، سپین، سوئٹزر لینڈ اور ایک عرصہ تک فرانس میں نئے مشن کھولے گئے اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں جماعتیں قائم ہیں اور دین سیکھنے کے لئے بعض طالب علم بھی یہاں آئے ہیں ۔ چنانچہ جرمنی کے ایک نو جوان عبدالشکور کنزے اس وقت یہاں دین کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں تا بعد میں وہ اپنے ملک میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ کر سکیں ۔ امریکہ سے بھی اس تحریک کے سلسلہ میں ایک نوجوان یہاں پہنچے ہیں اور وہ بھی دین کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ ایک اور نوجوان کے متعلق بھی اطلاع آئی ہے کہ وہ دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ آ رہے ہیں اور وہ غالباً جلسہ سالانہ تک یہاں پہنچ جائیں گے ۔ اسی طرح جرمنی سے بھی اطلاع آئی ہے کہ ایک اور نوجوان دین کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ آ رہے ہیں ۔ اس سے قبل غیر ممالک کے طالب علم مرکز سلسلہ میں نہیں آئے تھے لیکن تحریک جدید کے جاری ہونے کے بعد باہر سے بھی طلباء آنے شروع ہو گئے اور اب 30 کے قریب غیر ملکی طالب علم ربوہ میں موجود ہیں ۔ چین کے طالب علم بھی ہیں ، انڈونیشیا کے طالب علم بھی ہیں ، برما کے طالب علم بھی ہیں ، سیلون کے طالب علم بھی ہیں ، سوڈان کے طالب علم بھی ہیں ، ایسے سینیا کے طالب علم بھی ہیں ، شام کے طالب علم بھی ہیں ، جرمنی اور امریکہ کے طالب علم بھی ہیں ، انگلینڈ کے طالب علم بھی ہیں ، سمالی لینڈ 1 کے کے طالب طالب علم علم بھی ہیں اور ابھی مزید طلباء کے آنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ۔ آج بھی ایسے سینیا سے ایک نوجوان کا خط ملا ہے کہ وہ تعلیم دین کے حصول کی خاطر ربوہ آنا چاہتے ہیں ۔ اسی طرح سمالی لینڈ سے بھی اطلاع آئی ہے کہ وہاں سے بھی بعض اور طالب علم یہاں آ رہے ہیں ۔ گویا اس تحریک کے نتائج اس